خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 493 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 493

خطبات مسرور 493 $2003 (مسند احمد بن حنبل مسند ابی سعید الخدری جلد ۳ صفحه ٣٩٤ حدیث نمبر ١٠٧٤٩) تو دیکھیں آنحضرت ﷺ نے ہمیں کس کس طرح دعاؤں کی طرف رغبت دلانے کی کوشش کی ہے۔ہم میں سے ہر ایک کا فرض بنتا ہے کہ رمضان کے ان بقیہ دنوں میں بہت دعائیں کریں اپنے لئے ، اپنے بیوی بچوں کے لئے ، اپنے خاندان کے لئے ، جماعت کے لئے۔جب انسان دوسروں کے لئے دعا کرتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔یہ چیز ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔اس لئے جماعت کے بے کس اور بے بس افراد کے لئے بہت دعائیں کریں جو کسی نہ کسی صورت میں مخالفین کی تکلیفیں اٹھا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں تینوں رنگوں میں دعائیں قبول کرنے کا بھی حق رکھتا ہے۔بلکہ جیسا کہ یہاں بیان ہوا ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر ہمیں عطا کر سکتا ہے۔وہ سب قدرتوں کا مالک ہے۔اس کو کبھی محدود کر کے نہ دیکھیں۔وو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جو شخص دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف مونہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھا رہتا اور اندھا مرتا ہے۔جو شخص روح کی سچائی سے دعا کرتا ہے وہ ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نامراد رہ سکے۔بلکہ وہ خوشحالی جو نہ صرف دولت سے مل سکتی ہے اور نہ حکومت سے اور نہ صحت سے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے جس پیرا یہ میں چاہے وہ عنایت کر سکتا ہے۔ہاں وہ کامل دعاؤں سے عنایت کی جاتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے تو ایک مخلص صادق کو عین مصیبت کے وقت میں دعا کے بعد وہ لذت حاصل ہو جاتی ہے جو ایک شہنشاہ کو تخت شاہی پر حاصل نہیں ہوسکتی۔سواسی کا نام حقیقی مراد یابی ہے جو آخر دعا کرنے والوں کو ملتی ہے۔(ايام الصلح، روحانی خزائن جلد نمبر ١٤ صفحه ٢٣٧) پھر آپ نے فرمایا: دعا کا قبولیت کے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ہم اس راز کو معقولی طور پر دوسروں کے دلوں میں بٹھا سکیں یا نہ بٹھا سکیں مگر کروڑ ہاراستبازوں کے تجارب نے اور خود ہمارے تجربہ نے اس مخفی حقیقت کو ہمیں دکھلا دیا ہے کہ ہما را دعا کرنا ایک قوت مقناطیسی رکھتا ہے۔اور فضل اور رحمت الہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔“ (ايام الصلح، روحانی خزائن جلد نمبر ١٤ صفحه ٢٤٠ - ٢٤١)