خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 475
475 $2003 خطبات مسرور پھر فرمایا کہ : ”شہر کے معنے عالم کے بھی ہیں۔ان معنوں کی رو سے اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ اس لَيْلَةُ الْقَدْر میں جو معارف اور علوم کھلے ہیں وہ ہزار عالم سے بہتر ہیں۔۔۔اس کی مضمون سے مسلمانوں کو اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جب بھی اسلام پر کوئی مصیبت کا زمانہ آئے انہیں علماء ظاہر کی امداد پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے“ (مولویوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں کہ وہ ہی ہمیں سبق دیں بلکہ انہیں چاہئے کہ ایسے تاریک زمانوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اترنے والی امداد کی طرف نظر رکھا کریں کہ جو کچھ آسمانی امداد اور ہدایت سے انہیں حاصل ہوگا وہ ظاہری علماء کی مجموعی کوششوں سے حاصل نہ ہو سکے گا۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔یہ زمانہ اسلام کے گزشتہ زمانوں سے زیادہ تاریک ہے۔بعد زمانہ نبوی ایسا سخت زمانہ اسلام پر کبھی نہیں آیا لیکن مسلمان اس بلاء کے دور کرنے کے لئے انسانوں پر زیادہ نظر رکھتے ہیں یہ نسبت خدا کے۔خدا تعالیٰ نے ان دنوں میں بھی حسب بشارات قرآنیہ اور حسب وعدہ إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴾ اپنا ایک مامور بھیجا ہے لیکن لوگوں کی اس طرف توجہ نہیں بلکہ خود ساختہ علاجوں کی طرف مائل ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ان کی حالت پر رحم فرمائے۔(تفسیر کبیر جلد نهم صفحه ۳۳۳۳۳۲) آج بھی دیکھ لیں یہ لوگ نمازیں بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، اعتکاف بھی بیٹھتے ہیں اور بظاہر احکامات پر عمل کر رہے ہوتے ہیں لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی سے انکاری ہیں، آپ کے بھیجے ہوئے مامور کی تضحیک و تکفیر کر رہے ہیں، اس کا انکار کر رہے ہیں۔اس لئے اللہ کے فضلوں کے وارث بھی نہیں ٹھہر رہے۔بلکہ آج کل جو حالات ہیں وہ اس قدر خوفناک ہیں اور ایسے بھیانک مسائل کی طرف جا رہے ہیں کہ احمدیوں کو تو بہر حال امت مسلمہ کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہئے اور ان دنوں میں، خاص طور پر رمضان کے دنوں میں ، آخری عشرہ میں بھی ، اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے۔اتنے لمبے عرصہ کی اندھیری رات دیکھنے کے بعد بھی ان کو عقل نہیں آرہی۔نام نہاد علماء نے انہیں غلط راستے پر ڈال دیا ہے۔اللہ تعالیٰ امت کو ایسے نام نہاد علماء سے نجات دے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ :