خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 476

خطبات مسرور 476 $2003 ”ہزار مہینوں میں چونکہ تمیں ہزار راتیں ہوتی ہیں اس لئے لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ اَلْفِ شَهْر کے یہ معنے ہوئے کہ تم اس زمانہ کا کیا ذکر کرتے ہو یہ زمانہ تو تمیں ہزار زمانوں سے بڑھ کر ہے۔اگر بعد میں تاریکی کے تیس ہزار دور بھی آجائیں تب بھی محمد رسول اللہ ﷺ کا زمانہ بے قیمت قرار نہیں دیا جا سکتا۔تب بھی یہی کہا جائے گا کہ وہ زمانہ آئندہ آنے والے سب زمانوں سے بڑھ کر تھا۔کیونکہ اس زمانہ میں اسلامی حکومت کا وہ ڈھانچہ قائم کر دیا گیا تھا جو قیامت تک آنے والے لوگوں کی صحیح رہنمائی کرنے والا اور اُن کی مشکلات کو پورے طور پر دُور کرنے والا ہے۔66 (تفسیر کبیر جلد نهم صفحه (٣٣٤ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ایک لیلۃ القدر تو وہ ہے جو پچھلے حصہ رات میں ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تجلی فرماتا ہے اور ہاتھ پھیلاتا ہے کہ کوئی دعا کرنے والا اور استغفار کرنے والا ہے جو میں اس کو قبول کروں؟ لیکن ایک معنے اس کے اور ہیں جس سے بدقسمتی سے علماء مخالف اور منکر ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہم نے قرآن کوایسی رات میں اتارا ہے کہ تاریک و تار تھی اور وہ ایک مستعد مصلح کی خواہاں تھی۔خدا تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جب کہ اس نے فرمایا ( وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ۔پھر جب انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ تاریکی میں پڑا رہے۔ایسے ہی زمانے میں بالطبع اس کی ذات جوش مارتی ہے کہ کوئی مصلح پیدا ہو۔پس إِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ اس زمانہ ضرورت بعثت آنحضرت ﷺ کی ایک اور دلیل ہے۔(الحكم جلد نمبر ١٠ نمبر ۲۷ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۶ ء بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام صفحه ۶۷۱۔۶۷۲) پس آج بھی آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق ایک لمبے زمانہ کی تاریکی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو مبعوث ہونا ہے عین ضروری تھا۔ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر اس زمانہ میں ہم نے ایک لیلۃ القدر کا نظارہ دیکھ لیا۔اللہ تعالیٰ رمضان میں آنے والی لیلۃ القدر کے نظارے بھی ہمیں دکھائے۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ :