خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 474

474 $2003 خطبات مسرور طرف ظلمت کے ایام ختم ہوئے اور دوسری طرف قابل قدر زمانہ شروع ہوا۔اس لئے یہ متضاد صفت لیل اور قدر یہاں آکر ا کٹھے ہو گئے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان ۲۲ اگست ۱۹۱۲ ء بحواله حقائق الفرقان جلد چهارم صفحه (٤٢٧ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: "إِنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے۔چونکہ پہلی سورۃ میں قرآن کریم کا ذکر آ چکا تھا اس لئے یہاں بجائے یہ کہنے کے کہ۔انا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴾ اللہ تعالیٰ نے صرف اس کی طرف ضمیر پھیر دی اور کہہ دیا کہ اِنَّا اَنْزَلْنَه فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ کیونکہ یہ بات ہر شخص پہلی سورۃ پر نظر ڈال کر آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا اور اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ قرآن کریم کا خاص طور پر نام لیا جاتا۔لیلۃ اور لیل کے معنے رات کے ہوتے ہیں۔کیل کا لفظ ۷۹ دفعہ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور لَيْلَة کا لفظ صرف آٹھ دفعہ۔اور عجیب بات یہ ہے کہ لفظ لَيْلَة کا استعمال نزول کلام الہی یا اس کے متعلقات کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔یعنی ایسے احکامات جب دئے گئے ہوں ،شریعت کی بات جب کی گئی ہے تب ليلة کا لفظ استعمال ہوا ہے اور یہ امرا تفاق نہیں کہلا سکتا۔ضرور اس میں حکمت ہے اور کیل اور لیلہ کا یہ فرق بے معنی نہیں“۔پھر حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے کامل بروزوں کی طرف اشارہ ہے۔لیکن چونکہ ناقص بروز بھی بروز ہی ہوتا ہے اس لئے یہ آیت ناقص بروزوں کے متعلق بھی اشارہ کرتی ہے یعنی ایسے زمانہ کے مصلحین کی نسبت بھی جبکہ کامل تاریکی تو نہیں آئے گی لیکن ایک نئی زندگی کی ضرورت انسان کو محسوس ہوگی۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ہر صدی کے سر پر دنیا کو ایک ہوشیار کرنے والے کی ضرورت پیش آجاتی ہے اور اسلام میں اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر مجدد بھیجتا رہے گا۔ان مجد دوں کے متعلق بھی اس آیت میں پیشگوئی موجود ہے کیونکہ وہ بھی جزوی طور پر محمد رسول اللہ ﷺ کے قائمقام ہوتے ہیں اور ایک جزوی تاریک رات میں ان کا ظہور ہوتا ہے۔(تفسیر کبیر جلد نهم صفحه ۳۱۹)