خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 473 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 473

$2003 473 خطبات مسرور صرف ایک رسم ہو کر نہ رہ جائے جسے اسلام بہت ناپسند کرتا ہے۔اب جو چاہے رمضان کی آخری راتوں میں سے تلاش کر سکتا ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو دس راتوں میں تلاش کرے گا اُسے دین کے ساتھ پہلے سے زیادہ لگاؤ ہو جائے گا اور اُس کے دل میں دین کی محبت پیدا ہو جائے گی اور اُس سے یہ اُمید کی جاسکے گی کہ پہلی غلطیوں کو چھوڑ کر پورے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائے اور کسی وقت اس کی ہر رات ہی لیلۃ القدر ہو جائے گی۔(تفسير كبير جلد نهم صفحه (۳۲۸ حضرت فاریہ امسیح الاول رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ: خ لَيْلْ ظُلمت اور قدر۔دال کے سکون کے ساتھ بمعنے مرتبہ۔یہ دونوں صفتیں ایک جگہ اکٹھی کر دی گئی ہیں۔لیلۃ القدر، ایک خاص رات رمضان شریف کے آخر دھا کا میں ہے جس کا ذکر سورۃ الفجر میں ﴿وَالَّيْلِ إِذا يَسْرِ (فجر:ہ) میں بھی کیا گیا ہے۔اور ایک جگہ فرمایا: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآن ﴾ (البقرہ:۱۸۲) اور دوسری جگہ بیان فرمایا إِنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر: ٢)۔ان دونوں آیتوں کے ملانے سے بھی معلوم ہوا کہ لیلۃ القدر رمضان شریف میں ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور بھی زیادہ تشریح کر کے یہ پتہ دیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کے آخیر دھا کا کی طاق راتوں میں ہوا کرتی ہے۔کسی سال اکیسویں شب کو، کسی سال ۲۳ یا ۲۵ یا ۲۷ یا ۲۹ ویں شب کو۔اس شب کے فضائل صحیح حدیثوں میں بے حد بیان فرمائے ہیں“۔پھر فرمایا: اِنَّا اَنْزَلْنَه کا مرجع جس طرح قرآن شریف سمجھا گیا ہے اسی طرح اس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات مبارک بھی مراد ہے۔اسی لئے آنز له فرمایا کہ قرآن اور مُنَزَّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآن دونوں ہی مرجع ٹھہر ہیں۔ورنہ اَنْزَلْنَهُ هذَا الْقُرْان فرمانا کوئی بعید بات تھی۔لیل وہ ظلمت کا زمانہ ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے وقت سے پہلے کا زمانہ تھا۔جس کو عام طور پر ایام جاہلیت کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور قدر دال کی سکون کے ساتھ وہ قابل قدر زمانہ ہے جس زمانے سے پیغمبر ﷺ کی بعثت شروع ہوئی اور اس کی مدت پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں سے ۲۳ سال کی مدت تھی۔جس میں ابتداء الی آخر سارے قرآن شریف کا نزول ہوا۔ایک