خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 472
472 $2003 خطبات مسرور پھر حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ اگر مجھے علم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا دعا کروں۔فرمایا کہ تو یہ دعا کر کہ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِی۔اے اللہ تو بہت معاف کرنے والا اور معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے پس تو مجھے بھی بخش دے اور معاف فرما دے۔(ابن ماجه كتاب الدعا باب الدعا بالعفو۔۔۔۔۔۔۔۔اب اس حدیث میں بڑی خوبصورت اور بڑی جامع دعا سکھائی گئی ہے۔اس کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ میرے گناہوں سے درگزر کر ، مجھے معاف کر دے۔فرمایا کہ رمضان کی برکات سے تو نے مجھے فیضیاب فرمایا، مجھے توفیق دی کہ میں نے روزے رکھے، تیری عبادت کی ، تجھ سے مغفرت طلب کی، اپنے گناہوں کی تجھ سے معافی مانگی ، تجھ پر مکمل یقین اور ایمان مجھے حاصل ہوا۔اور آج تو نے مجھ پر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ میں نے تمہاری دعاؤں کو سنا، تمہاری گریہ وزاری کوسنا، مجھے لیلۃ القدر کا علم دیا اور مجھے لیلۃ القدر دکھائی۔تو میری یہ دعا ہے کہ میرے اندر کی تمام برائیوں کا نام ونشان مٹادے، میرے گناہوں کو یوں دھو ڈال جیسے کہ یہ کبھی تھے ہی نہیں۔تو بادشاہ ہے، تیرے خزانے میں کبھی کوئی کمی نہیں آئے گی اگر تو یہ سلوک میرے ساتھ کرے۔اور پھر یہ سلوک بھی کر کہ مجھے کبھی ان باتوں کا، ان غلط حرکات کا کبھی خیال تک بھی نہ آئے جو میں ماضی میں کر چکا ہوں۔اور رمضان کے بعد ہمیشہ میں پاک صاف ہو کر اور تیرا بندہ بن کر رہوں۔اور یہی چیز ہے جسے تو اپنے بندوں کے لئے پسند کرتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سورۃ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’احادیث میں مذکورہ لیلۃ القدر بھی ایک جہت سے اسی لیلۃ القدر سے تعلق رکھتی ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھا اور یہ کہ ان معنوں کی رُو سے اصل لیلۃ القدر وہی رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھا اور صرف اس کی یاد تازہ رکھنے کے لئے اور اس عہد کو تازہ کرنے کے لئے جو نزول قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے باندھا تھا۔اس نے لیلۃ القدر مقرر کی ہے اور اس فائدہ کو مدنظر رکھ کر کہ امت کے کمزور لوگ بھی کم از کم دس راتیں تو خوب عبادت کرلیں۔اس نے رمضان کی آخری دس راتوں میں اسے چھپا دیا ہے اور معین رات مقررنہیں کی تاکہ اس کا قیام