خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 467
467 $2003 خطبات مسرور یہی مراد ہے کہ ایک لمبے تاریک زمانے کے بعد ایک ایسا نبی مبعوث ہوا جس پر اللہ تعالیٰ نے آخری شرعی کتاب نازل فرمائی اور دین کامل کیا۔اور اپنی تمام تر نعمتیں اس نبی کو جسے خاتم الانبیاء پھہرایا عطا فرمائیں۔اور یہ خوشخبری بھی اس کے ماننے والوں کو دے دی کہ قیامت تک اس نبی کی شریعت ہی ہدایت کا راستہ دکھانے کے لئے جاری رہے گی۔اس دنیا میں کوئی نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نئی شریعت لے کر مبعوث نہیں ہوگا۔ہاں زمانے کے اثر کے تحت جب دین میں بگاڑ پیدا ہوگا تو مجددین کا سلسلہ چلتا رہے گا جو خاتم النبیین کی شریعت کو، اس کی صحیح تعلیم کو مسلمانوں میں رائج کرتے رہیں گے۔اور پھر آپ ﷺ نے یہ پیشگوئی بھی فرمائی کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا۔تو بہر حال اس سورۃ میں مختلف مضامین چھپے ہوئے ہیں جن کو اب میں مفسرین اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالوں اور احادیث سے کسی حد تک واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔سب سے پہلے یہ لیلۃ القدر کی بات چل رہی ہے۔اس کے متعلق معلوم ہو کہ کب آتی ہے یہ رات ، اور کس طرح پتہ چلے کہ یہ رات میسر آ گئی ہے۔اس کے بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ : کیا کوئی ایسی علامت ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ فلاں رات اس رمضان میں لیلتہ القدر تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض احادیث میں یہ آتا ہے کہ کچھ بھی چمکتی ہے، ہوا ہوتی ہے اور ترقیح ہوتا ہے، ایک نور آسمان کی طرف جاتا یا آتا نظر آتا ہے۔مگر اوّل الذکر علامات ضروری نہیں۔گواکثر ایسا تجربہ کیا گیا ہے کہ ایسا ہوتا ہے اور آخری علامت نور دیکھنے کی صلحاء کے تجربہ میں آئی ہے۔یہ ایک کشفی نظارہ ہے، ظاہر علامت نہیں جسے ہر ایک شخص دیکھ سکے۔خود میں نے بھی اس کا تجربہ کیا ہے لیکن جو کچھ میں نے دیکھا ہے دوسروں نے نہیں دیکھا۔اصل طریقہ یہی ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ سے سارے رمضان میں دعائیں کرتا رہے اور اخلاص سے روزے رکھے، پھر اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی رنگ میں اس پرلیلۃ القدر کا اظہار کر دیتا ہے“۔(تفسير كبير جلد نهم صفحه ۳۲۹) حدیث میں آتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور یے