خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 459
459 $2003 خطبات مسرور جس قدر چاہے گا صندوق کھول کر نکال لے گا۔ایسا ہی متوکل کو خدا تعالیٰ پر یقین اور بھروسہ ہوتا ہے کہ جس وقت چاہے گا نکال لے گا۔اور اللہ کا ایسا ہی سلوک ہوتا ہے۔تو دیکھیں اس سے ہمیں سبق مل رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں کی ضرورتیں پوری کر لیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری بہتری کی خاطر ، ہماری بھلائی کے لئے ، ہمیں بھی ان خوش قسمتوں میں شامل کر لیا ہے جو ان نیک کاموں میں شامل ہوتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کے بارہ میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔ان کے بعض خطوط کی چند سطر میں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں۔لکھتے ہیں : میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیر ومرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنی خدمت بجالا ؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس سے واپس کر دوں۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (٣٥-٣٦) یعنی جو خریدار ہیں براہین احمدیہ کے اس وقت اگر وہ ادا ئیگی نہیں کر پار ہے تو مجھے اجازت دیں میں وہ ساری ادا ئیگی اپنی طرف سے کر دیتا ہوں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : دمیں جو بار بار تاکید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہے کیونکہ اسلام اس وقت تنزل کی حالت میں ہے۔بیرونی اور اندرونی کمزوریوں کو دیکھ کر طبیعت بے قرار ہو جاتی ہے اور اسلام دوسرے مخالف مذاہب کا شکار بن رہا ہے۔جب یہ حالت ہو گئی ہے تو کیا اب اسلام کی ترقی کے لئے ہم قدم نہ اٹھائیں؟ خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لئے تو اس سلسلہ کو