خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 458

458 $2003 خطبات مسرور رکھتا ہوں۔اور باقی ایک تہائی دوبارہ ان کھیتوں میں بیچ کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔یہ ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو کاروباری ہوں یا ملازم پیشہ ہوں۔تو اس آمد میں سے جتنا بھی چندہ آپ نے دینا ہوتا ہے نکال کے ہر مہینہ یا ہر کاروبار کے منافع کے وقت علیحدہ کر لیا کریں تو بڑی سہولت رہتی ہے اور سال کے آخر میں پھر بوجھ نہیں پڑتا۔ایک حدیث ہے حضرت نبی کریم ﷺ نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسمامہ بنت ابو بکر کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دے گا۔اپنے روپوؤں کی تھیلی کا منہ ( بخل کی راہ سے ) بند کر کے نہ بیٹھ جاؤ یعنی کنجوسی سے دبا کر نہ رکھو۔ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔کیونکہ اگر روپیہ نکلے گا نہیں تو آئے گا بھی نہیں۔اور جتنی طاقت ہے دل کھول کر خرچ کیا کرو۔(بخارى كتاب الهبة وفضلها باب هبة المرأة لغير۔۔۔۔۔۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ کہ ابتدائی ایام میں ، جو شروع کے دن تھے، چندے وغیرہ مقرر نہ ہوئے تھے اور جماعت کی تعداد بھی تھوڑی تھی۔ایک دفعہ کثیر تعداد میں مہمان آگئے۔اس وقت خرچ کی دقت تھی۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے میرے روبرو حضرت اقدس علیہ السلام سے خرچ کی کمی کا ذکر کیا۔اور یہ بھی کہا کہ مہمان زیادہ آگئے ہیں۔آپ گھر گئے ، حضرت ام المومنین کا زیور لیا اور میر صاحب کو دیا کہ اس کو فروخت کر کے گزارہ چلائیں۔پھر دوسرے تیسرے دن، وہ زیور کی جو آمد ہوئی تھی، روپیہ آیا تھا، ختم ہو گیا۔میر صاحب پھر حاضر ہوئے اور اخراجات کی زیادتی کے بارہ میں ذکر کیا۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم نے مسنون طریقے پر ظاہر اسباب کی رعایت کرلی ہے اب وہ خودا انتظام کرے گا۔یعنی جومسنون طریقہ تھا، جو ہمارے پاس تھا وہ تو ہم نے دے دیا ہے، خرچ کر لیا ہے اب خدا تعالیٰ خود انتظام کرے گا جس کے مہمان ہیں۔کہتے ہیں کہ دوسرے ہی دن اس قدر روپیہ بذریعہ منی آرڈر پہنچا کہ سینکڑوں تک نوبت پہنچ گئی۔اس زمانہ میں سینکڑوں بھی بہت قیمت رکھنے والے تھے۔پھر آپ نے تو کل پر تقریر فرمائی، فرمایا: جبکہ دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپے پر اعتبار ہوتا ہے کہ حسب ضرورت