خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 457
457 $2003 خطبات مسرور لوگوں کے لئے جنہوں نے مالی قربانیاں دیں کہ ان دنوں میں ، یہ روزوں کا مہینہ بھی ہے اور روزوں کے ساتھ ساتھ ذکر الہی یا نمازوں کی طرف بھی توجہ رہتی ہے۔تو اگر اس طرف پوری توجہ ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ جو تمہاری مالی قربانیاں ہیں ان کو میں سات سو گنا بڑھا دوں گا۔ایک روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے کہ ایک آدمی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑا صدقہ کیا ہے؟۔آپ نے فرمایا: سب سے بڑا صدقہ یہ ہے کہ تو اس حالت میں صدقہ کرے کہ تو تندرست ہو۔اور مال کی ضرورت اور حرص رکھتا ہو، غربت سے ڈرتا ہوں اور خوشحالی چاہتا ہو۔صدقہ و خیرات میں دیر نہ کر کہیں ایسا نہ ہو کہ تیری جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہے کہ فلاں کو اتنا دے دو اور فلاں کو اتنا دے دو۔فرمایا کہ وہ مال تو اب تیرا رہاہی نہیں وہ تو فلاں کا ہو ہی چکا ہے۔اس لئے صحت کی حالت میں چندوں اور صدقات کی طرف توجہ دینی چاہئے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے ایک قصہ بیان کیا کہ ایک آدمی بے آب و گیاہ جنگل میں جا رہا تھا۔بادل گھرے ہوئے تھے۔اُس نے بادل میں سے آواز سنی کے بادل ! فلاں نیک انسان کے باغ کو سیراب کر۔وہ بادل اس طرف کو ہٹ گیا۔پتھریلی سطح مرتفع نیچے چٹا نہیں تھیں جہاں، وہاں پر بارش برسنی شروع ہوگئی۔پانی ایک چھوٹے سے نالے میں بہنا شروع ہو گیا۔۔وہ شخص بھی اس نالے کے کنارے کنارے چل پڑا۔کیا دیکھتا ہے کہ یہ نالہ ایک باغ میں جا داخل ہوا ہے اور باغ کا مالک کدال سے پانی ادھر ادھر مختلف کیاریوں میں لگا رہا ہے۔اس آدمی نے باغ کے مالک سے پوچھا: اے اللہ کے بندے ! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتایا جو اس مسافر نے اس بادل میں سے سنا تھا۔پھر باغ کے مالک نے اس مسافر سے پوچھا۔اے اللہ کے بندے؟ تم بتاؤ کہ تمہیں میرا نام پوچھنے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ اس نے کہا کہ میں نے اس بادل سے جس بادل کا تم پانی لگا رہے ہو آواز سنی تھی کہ اے بادل ! فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کر۔تو تم نے کون سا ایسا نیک عمل کیا ہے جس کا بدلہ تم کو مل رہا ہے۔باغ کے مالک نے کہا کہ اگر آپ سننا چاہتے ہیں تو سنیں۔میرا طریقہ یہ ہے کہ اس باغ میں سے جو پیداوار ہوتی ہے اس کا ایک تہائی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں۔اور ایک تہائی اپنے اور اہل وعیال کے گزارہ کے لئے