خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 452
452 $2003 خطبات مسرور اس زمانے کے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے بہترین مال خوشدلی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک نیت لوگوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ اے لوگو! تم جو میری راہ میں خرچ کرتے ہو میں تمہیں بغیر اجر کے نہیں چھوڑوں گا۔بلکہ طاقت رکھتا ہوں کہ تمہاری اس قربانی کوسات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ کر سکتا ہوں۔اور یا درکھو کہ جیسے جیسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے اپنا دل کھولتے جاؤ گے اللہ تعالیٰ تمہیں وسعت بھی دیتا چلا جائے گا۔تم اس دنیا میں بھی اس کے فضلوں کے وارث ٹھہرو گے اور یہ اجر صرف یہیں ٹھہر نہیں جائے گا بلکہ اگلے جہان میں بھی اجر پاؤ گے۔اور پھر تمہاری نسلوں کو بھی اس کا اجر ملتا رہے گا۔اب دیکھیں ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی کشائش، مالی وسعت ان کے بزرگوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں ہے۔یہ احساس ہمیں اپنے اندر ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے ، اجاگر کرتے رہنا چاہئے اور اس لحاظ سے بھی بزرگوں کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں اور آئندہ نسلوں کو بھی یہ احساس دلانا چاہئے کہ بزرگوں کی قربانی کے نتیجہ میں ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ نے بہت سارے فضل فرمائے ہیں۔حضرت امام راز کی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيْلِ اللہ کہتے ہیں کہ آیت مَنْ دَالَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً میں اللہ تعالیٰ نے مال کو بڑھا چڑھا کر واپس کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔اور اس آیت میں اس بڑھا چڑھا کر دینے کی تفصیل بیان کی ہے۔ان دونوں آیات کے درمیان اللہ تعالیٰ نے زندہ کرنے اور مارنے کی اپنی قدرت پر دلائل دئے ہیں۔اگر یہ قدرت خداوندی نہ ہوتی تو خرچ کرنے کا حکم مستحکم نہ ہوتا۔کیونکہ اگر جزاء سزا دینے والا کوئی وجود نہ ہوتا تو خرچ کرنا فضول ٹھہرتا۔دوسرے لفظوں میں گویا اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والے کو یہ کہتا ہے کہ تو جانتا ہے کہ میں نے تجھے پیدا کیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کیا اور تو میرے اجر اور ثواب دینے کی طاقت سے واقف ہے پس چاہئے کہ تیرا یہ علم تجھے مال خرچ کرنے کی ترغیب دے کیونکہ وہی یعنی خدا تھوڑے کا بہت زیادہ بدلہ دیتا ہے۔اور یہاں اس بہت زیادہ کی مثال بیان کی ہے کہ جو ایک دانہ ہوتا ہے میں اس کے لئے سات بالیاں نکالتا ہوں اور ہر بالی میں سو (۱۰۰) دانے ہوتے ہیں تو گویا ایک سے سات سو دانے ہو جاتے ہیں۔