خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 446
446 $2003 خطبات مسرور ہے۔اس لئے نوافل کے لئے اٹھنا بہت ضروری ہے۔یہ نہیں کہ صرف سحری کھانے کے لئے اٹھے، وقت مقرر کرنا چاہئے نوافل کے لئے بھی۔پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بندے کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہوں۔جس وقت بندہ مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کروں گا اور اگر وہ میرا ذکر محفل میں کرے گا تو میں اس بندے کا ذکر اس سے بہتر محفل میں کروں گا۔اگر وہ میری جانب ایک بالشت بھر آئے گا تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ آؤں گا۔اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ آئے گا تو میں اس کی طرف دو ہاتھ جاؤں گا۔اگر وہ میری طرف چل کر آئے گا تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاؤں گا۔(ترمذی ابواب الدعوات فى حسن الظن بالله عز و جل۔۔۔۔۔۔۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بڑا حیا والا ہے، بڑا کریم اور سخی ہے۔جب بندہ اس کے حضور اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتا ہے تو وہ ان کو خالی ہاتھ اور نا کام واپس کرنے سے شرماتا ہے یعنی صدق دل سے مانگی ہوئی دعا کو وہ رو نہیں کرتا بلکہ قبول فرماتا ہے۔(ترمذى كتاب الدعوات باب فء دعا النبى الله۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ’دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے۔جب انتہائی درجہ اضطرار کا پیدا ہو جاتا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کی قبولیت کے آثار اور سامان بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں۔یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان حقیقت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہواُسے چاہئے کہ دعا کرے“۔(الحكم جلد ٨ نمبر ١٣ ـ مورخه ٢٤/اپریل ١٩٠٤ ء صفحہ ٦ ـ تفسیر حضرت مسیح موعود" جلد اول صفحه ٦٥٥) پھر آپ نے فرمایا: دعا کی مثال ایک چشمہ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے وہ جب چاہے اس