خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 445
خطبات مسرور 445 $2003 پھر اسی آیت کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا یعنی ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ فرمایا: یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں کہ خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ میں بہت نزدیک ہوں یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں۔میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آ سکتا ہے اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی سنتا ہوں اور اپنے الہام سے اس کی کامیابی کی بشارت دیتا ہوں جس سے نہ صرف میری ہستی پر یقین آتا ہے بلکہ میرا قادر ہونا بھی بپا یہ یقین پہنچتا ہے۔لیکن چاہئے کہ لوگ ایسی حالت تقویٰ اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ میں ان کی آواز سنوں! اور نیز چاہیئے کہ وہ مجھ پر ایمان لاویں اور قبل اس کے کہ جو ان کو معرفت تامہ ملے اس بات کا اقرار کریں کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اور قدرتیں رکھتا ہے۔کیونکہ جو شخص ایمان لاتا ہے اسی کو عرفان دیا جاتا ہے۔ايام الصلح روحانی خزائن جلد ١٤ صفحه ٢٦٠ - ٢٦١) حدیث میں آتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ اللہ کو خوب یاد کیا کرو یہاں تک کہ لوگ کہیں کہ یہ مجنوں شخص ہے۔یہ ہے اللہ کو یاد کرنے کا طریق۔حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کی ہر رات اللہ تعالیٰ ایک منادی کرنے والے فرشتہ کو بھیج دیتا ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ اے خیر کے طالب آگے بڑھ اور آگے بڑھ۔کیا کوئی ہے جو دعا کرے تا کہ اس کی دعا قبول کی جائے کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اسے بخش دیا جائے کیا کوئی ہے جو تو بہ کرے تاکہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔(کنز العمال جلد ۸ کتاب الصوم قسم الاول ) پھر حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ جب رات کا نصف یا 2/3 حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ قریب کے آسمان کی طرف اتر آتا ہے، پھر فرماتا ہے کیا کوئی سوالی ہے جسے دیا جائے؟، کیا کوئی دعا کرنے والا ہے جس کی دعا قبول کی جائے؟، کیا کوئی بخشش کا طالب ہے کہ اسے بخش دیا جائے ؟ یہ صورت حال اسی طرح جاری رہتی ہے یہاں تک کہ فجر نمودار ہو جاتی