خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 444
خطبات مسرور 444 $2003 میں اللہ کا ذکر کرنے والا بخشا جاتا ہے اور اس ماہ اللہ سے مانگنے والا کبھی نا مراد نہیں رہتا۔پھر ایک حدیث ہے کہ روزہ دار کے لئے اس کی افطاری کے وقت کی دعا ایسی ہے جورڈ نہیں کی جاتی۔( ابن ماجه كتاب الصيام باب في الصائم لا تردد۔۔۔۔۔۔۔حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں: اگر لوگ پوچھیں کہ روزہ سے کیسے قرب حاصل ہو سکتا ہے تو کہہ دے فَإِنِّي قَرِيْبٌ۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ﴾ یعنی میں قریب ہوں اور اس مہینہ میں دعائیں کرنے والوں کی دعائیں سنتا ہوں۔چاہئے کہ پہلے وہ ان احکاموں پر عمل کریں جن کا میں نے حکم دیا ہے اور ایمان حاصل کریں تا کہ وہ مراد کو پہنچ سکیں اور اس طرح سے بہت ترقی ہوگی۔( الحكم ۱۷/ نومبر ۱۹۰۷ ء صفحه (٥) حضرت خلیفہ المسیح الاول اس بارہ میں مزید فرماتے ہیں: روزہ جیسے تقویٰ سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے ویسے ہی قرب الہی حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان کا ذکر فرماتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا ہے ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ہ یہ ماہ رمضان کی ہی شان میں فرمایا گیا ہے اور اس سے اس ماہ کی عظمت اور ستر الہی کا پتہ لگتا ہے کہ اگر وہ اس ماہ میں دعائیں مانگیں تو میں قبول کروں گا لیکن ان کو چاہئے کہ میری باتوں کو قبول کریں اور مجھے مانیں۔انسان جس قدر خدا کی باتیں ماننے میں قوی ہوتا ہے خدا بھی ویسے ہی اس کی باتیں مانتا ہے۔﴿ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کور شد سے بھی خاص تعلق ہے اور اس کا ذریعہ خدا پر ایمان، اس کے احکام کی اتباع اور دعا کو قرار دیا ہے۔اور بھی باتیں ہیں جن سے قرب الہی حاصل ہوتا ہے“۔(الحکم ۴۲؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۱۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”رمضان کا مہینہ مبارک مہینہ ہے، دعاؤں کا مہینہ ہے“۔(الحکم ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ء)