خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 443
443 $2003 خطبات مسرور پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ میری سنے اور مجھ پر یقین رکھے۔یعنی وہ دعا میرے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ہو، جائز ہو، ناجائز نہ ہو، اخلاق کے مطابق ہو، سنت کے مطابق ہو، اگر کوئی شخص ایسی دعائیں کرے گا تو میں بھی اس کی دعاؤں کو سنوں گا۔لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ اے اللہ ! میرا فلاں عزیز الله مر گیا ہے تو اسے زندہ کر دے تو یہ دعا قرآن کے خلاف ہے، محمد رسول اللہ علیہ کی تعلیم کے خلاف ہے۔جب اُس نے قرآن کی ہی نہیں مانی، محمد رسول اللہ ﷺ کی نہیں مانی تو خدا اُس کی بات کیوں مان لے۔پس فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ﴾ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تمہیں چاہئے کہ تم میری باتیں مانو اور مجھ پر یقین رکھو۔اگر تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے تو میں بھی تمہاری دعا کیسے سن سکتا ہوں؟ پس قبولیت دعا کے لئے دو شرطیں ہیں اول فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي تم میری باتیں مانو۔(۲) وَلْيُؤْمِنُوا بنی اور مجھے پر یقین رکھو۔جولوگ ان شرائط کو پورا نہیں کرتے وہ دیندار نہیں۔وہ میرے احکام پر نہیں چلتے اس لئے میں بھی یہ وعدہ نہیں کرتا کہ میں ان کی دعائیں سنوں گا۔بے شک میں ان کی دعاؤں کو بھی سنتا ہوں مگر اس قانون کے ماتحت ان کی ہر دعا کو نہیں سنتا۔لیکن جو شخص اس قانون پر چلتا ہے۔اور پھر دعائیں بھی کرتا ہے میں اس کی ہر دعا کو سنتا ہوں۔(تفسير كبير جلد دوم صفحه ٤٠٥ - ٤٠٦) پھر آپ نے فرمایا: پس رمضان کے مہینہ کا دعاؤں کی قبولیت کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ہے۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں دعا کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے قریب کے الفاظ بیان فرمائے۔اگر وہ قریب ہونے پر بھی نہ مل سکے تو اور کب مل سکے گا۔جب بندہ اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیتا ہے اور اپنے عمل سے ثابت کر دیتا ہے کہ اب وہ خدا تعالیٰ کا درد چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گا تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے اس پر کھل جاتے ہیں اور اتنی قریب کی آواز اس کے کانوں میں بھی آنے لگتی ہے جس کے معنے سوائے اس کے اور کیا ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے اور جب کوئی بندہ اس مقام پر پہنچ جائے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس نے خدا کو پالیا۔حدیث میں آتا ہے۔حضرت عمر روایت کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رمضان