خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 442
442 $2003 خطبات مسرور تو دنیاوی تعلقات میں بھی نہیں چلتے تو بہر حال خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے ان بندوں کے قریب ہوں۔ان کی دعائیں سنتا ہوں جو میرے قریب ہیں، جن کو میری ذات سے تعلق ہے۔صرف اپنے دنیاوی مقصد حاصل کروانے کے لئے ہی میرے پاس دوڑے نہیں چلے آتے۔اب جبکہ تم میرے کہنے کے مطابق روزے رکھ رہے ہو، بہت سی برائیوں کو چھوڑ رہے ہو، نیکی کی تلقین کر رہے ہو، نمازوں میں با قاعدگی اختیار کر رہے ہو ، نوافل کی ادائیگی کی طرف توجہ دے رہے ہو تو میں بھی تمہاری دعاؤں کو سنتا ہوں، جواب دیتا ہوں۔میں تو اس انتظار میں بیٹھا ہوں کہ میرا کوئی بندہ خالص ہو کر مجھے پکارے تو میں اس کی پکار کا جواب دوں۔اب جبکہ تم خالص ہو کر مجھے پکار رہے ہو، مجھ پر کامل ایمان رکھتے ہو، میرے بندوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہو، ان کا خیال رکھ رہے ہو ، رمضان میں غریبوں کے روزے رکھوانے اور کھلوانے کا بھی اہتمام کر رہے ہو، توجہ دے رہے ہو، لڑائی جھگڑوں سے دُور ہو، معاف کرنے میں پہل کرنے والے ہو، انتقام سے دور ہٹنے والے ہو، کیونکہ کامل ایمان کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر بھی کامل ایمان اور یقین ہو، اس لئے میری صفات کو ہر وقت ہمیشہ مدنظر رکھنے والے بھی ہو اور اپنی استعدادوں کے مطابق ان کو اپنانے والے ہو، تو اے میرے بندو ! میں تمہارے قریب ہوں ، تمہارے پاس ہوں ، تمہاری دعاؤں کو سن رہا ہوں تمہیں اب کوئی غم اور فکر نہیں ہونا چاہئے۔اور رمضان کے مہینے میں تو میں اپنی رحمت کے دروازے وسیع کر دیتا ہوں۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِی اگر میں نے کہا ہے کہ میں پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ میں ہر ایک پکار کوسن لیتا ہوں۔جس پکار کو میں سنتا ہوں اس کے لئے دو شرطیں ہیں۔اوّل میں اس کی پکارسنتا ہوں جو میری بھی سنے۔دوسرے میں اس کی پکارسنتا ہوں جسے مجھ پر یقین ہو، مجھ پر بدظنی نہ ہو۔اگر دعا کرنے والے کو میری طاقتوں اور قوتوں کا یقین ہی نہیں تو میں اس کی پکار کو کیوں سنوں گا۔پس قبولیت دعا کے لئے دوشرطیں ہیں۔جس دعا میں یہ دو شرطیں پائی جائیں گی وہی قبول ہوگی اسی لئے یہاں اللہ تعالیٰ نے الداع فرمایا ہے جس کے معنے ہیں ایک خاص دعا کرنے والا۔اور اس کے آگے شرائط بتا دیں جو الداع میں