خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 40
خطبات مسہ $2003 40 40 تشہد وتعوذ کے بعد حضور انور نے سورۃ النمل کی حسب ذیل آیت تلاوت فرمائی وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِى اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ (سورة النمل: ۸۹)۔﴾ اور تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اس حال میں کہ انہیں ساکن و جامد گمان کرتا ہے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہیں۔( یہ ) اللہ کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔یقینا وہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تَمُرُّ مَر السَّحَاب سے یہ مراد نہیں کہ پہاڑ الگ چلتے ہیں اور زمین الگ چلتی ہے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ زمین چلتی ہے تو وہ بھی اس کے ساتھ چلتے ہیں اور جس طرح زمین بادلوں کو اپنے ساتھ کھینچے چلی جاتی ہے اسی طرح وہ پہاڑوں کو بھی اپنے ساتھ اٹھائے چلی جاتی ہے۔بڑی بڑی حکومتوں کی تباہی کی خبر اس آیت میں ظاہری طور پر تو پہاڑوں کے چلنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بادلوں کے ساتھ ان کی مشابہت بیان کی گئی ہے لیکن باطنی طور پر اس میں بڑی بڑی حکومتوں کی تباہی کی خبر دی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ تمہیں تو اپنے زمانہ کی حکومتیں ایسی مضبوط دکھائی دیتی ہیں کہ تم سمجھتے ہو وہ صدیوں تک بھی تباہ نہیں ہو سکتیں مگر خدا تعالیٰ اسلام کی شوکت ظاہر کرنے کے لئے ان کو اس طرح اڑادے گا کہ ان کا نشان تک بھی نظر نہیں آئے گا۔چنانچہ اس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جس طرح