خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 430

430 $2003 خطبات مسرور سے کون جلدی کرتا ہے تو بتایا گیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ۔تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آنحضرت مہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔لیکن افطاری میں جلدی کرنے سے کیا مراد ہے؟ اس کا صلى تعین کس طرح ہو گا اس بارہ میں یہ حدیث وضاحت کرتی ہے۔آنحضرت ﷺ سے روایت ہے کہ غروب آفتاب کے بعد حضور نے ایک شخص کو افطاری لانے کو کہا۔اس شخص نے عرض کی کہ حضور ذرا تاریکی ہو لینے دیں۔آپ نے فرمایا: افطاری لاؤ۔اس نے پھر عرض کی کہ حضور ا بھی تو روشنی ہے۔حضور نے فرمایا افطاری لاؤ۔وہ شخص افطاری لایا تو آپ نے روزہ افطار کرنے کے بعد اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تم غروب آفتاب کے بعد مشرق کی طرف سے اندھیرا اٹھتا دیکھو تو افطار کرلیا کرو۔پھر بعض دفعہ روزے کے دوران انسان بھول جاتا ہے کہ روزہ ہے اور کچھ کھا لیتا ہے۔اس بارہ میں حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جوشخص روزہ کی حالت میں بھول کر کھا پی لے، وہ اپنے روزہ کو پورا کرے، اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے، یہ روزہ ٹوٹتا نہیں ہے اس کو پورا کرے۔کچھ سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش ہوئے کہ روزہ کی حالت میں یہ یہ جائز ہے یا نا جائز ہے، وہ میں آپ کو بتا تا ہوں۔سوال یہ ہوا کہ روزہ دار کو آئینہ دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی شیشہ دیکھنا جائز ہے یا نہیں جائز۔تو فرمایا جائز ہے۔پھر لوگ سوال بھی عجیب کرتے تھے۔ایک نے سوال کیا کہ روزہ دار کو داڑھی کو تیل لگانا جائز ہے یا نہیں۔آپ نے فرمایا جائز ہے۔پھر سوال پیش ہوا کہ خوشبو لگانا جائز ہے یا نہیں۔فرمایا جائز ہے۔پھر ایک سوال ہوا کہ آنکھوں میں سرمہ ڈالنا جائز ہے یا نہیں۔کیونکہ برصغیر میں سرمہ ڈالنے کا بھی ہندوستان پاکستان میں، خاص طور پر دیہاتوں میں کافی رواج ہے۔تو فرمایا مکروہ ہے۔اور ایسی ضرورت ہی کیا ہے کہ دن کے وقت سرمہ لگائے ، اگر آنکھوں میں کوئی تکلیف ہے تو رات کے وقت سرمہ لگا سکتا ہے۔(بدر جلد نمبر ٦ صفحه ١٤ بتاريخ ٢٤ / فروری ۱۹۰۷ء)