خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 431
431 $2003 خطبات مسرور پھر ایک سوال پیش ہوا کہ بعض اوقات رمضان ایسے موسم میں آتا ہے کہ کاشتکاروں کو جب کہ کام کی کثرت مثلاً بیج وغیرہ ڈالنا یا ہل چلانا وغیرہ تو ایسے مزدوروں سے جن کا گزارہ مزدوری پر ہے روزہ نہیں رکھا جاتا، گرمی بہت شدید ہوتی ہے تو ان کی نسبت کیا ارشاد ہے۔تو آپ نے فرمایا ك إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں، ہر شخص تقوی وطہارت سے اپنی حالت سوچ لے اگر کوئی اپنی جگہ مزدوری پر رکھ سکتا ہے تو ایسا کرے ورنہ مریض کے حکم میں ہے۔پھر جب میسر ہو یعنی جب سہولت پیدا ہو جائے تب روزہ رکھ لے۔آپ فرماتے ہیں کہ: و شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آ گیا اور اس کا منتظر میں تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں۔اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزہ سے محروم نہیں ہے۔اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جیسے اہل دنیا کو دھوکہ دے لیتے ہیں ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔بہانہ جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش کرتے ہیں۔اور تکلفات شامل کر کے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ صحیح نہیں ہے۔تکلفات کا باعث بہت وسیع ہے۔اگر انسان چاہے تو اس تکلف کی رُو سے ساری عمر بیٹھ کر نماز پڑھتا رہے۔(کبھی کھڑے ہوکر نمازیں نہ پڑھے، مریض ہی بنا رہے اور بیٹھ کے نمازیں پڑھے ) اور رمضان کے روزے بالکل نہ رکھے۔مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا اسے ثواب سے زیادہ بھی دیتا ہے کیونکہ در ددل ایک قابل قدر شئے ہے۔حیلہ جو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شئے نہیں۔جب میں نے چھ ماہ روزے رکھے تھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کا مجھے ( کشف میں ) ملا اور انہوں نے کہا کہ تو نے کیوں اپنے نفس کو اس قدر مشقت میں ڈالا ہوا ہے، اس سے باہر نکل۔اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ خود ماں باپ کی طرح رحم کر کے اُسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہوا ہے۔یہ لوگ ہیں کہ تکلف سے اپنے آپ کو مشقت سے محروم رکھتے ہیں۔اس لئے خدا اُن کو