خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 422
$2003 422 خطبات مسرور وو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : روزہ کی حقیقت کہ اس سے نفس پر قابو حاصل ہوتا ہے اور انسان متقی بن جاتا ہے۔اس سے پیشتر کے رکوع میں رمضان شریف کے متعلق یہ بات مذکور ہے کہ انسان کو جو ضرورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے بعض تو شخصی ہوتی ہیں اور بعض نوعی اور بقائے نسل کی شخصی ضرورتوں میں جیسے کھانا پینا ہے اور نوعی ضرورت جیسے نسل کے لئے بیوی سے تعلق۔ان دونوں قسم کی طبعی ضرورتوں پر قدرت حاصل کرنے کی راہ روزہ سکھاتا ہے اور اس کی حقیقت یہی ہے کہ انسان متقی بنا سیکھ لیوے۔آج کل تو دن چھوٹے ہیں“۔(اور اتفاق سے یہ دن بھی رمضان کے سردیوں میں ہی ہیں اور یہ بھی چھوٹے ہیں )۔سردی کا موسم ہے اور ماہ رمضان بہت آسانی سے گذرا مگر گرمی میں جولوگ روزہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھوک پیاس کا کیا حال ہوتا ہے۔اور جوانوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اُن کو بیوی کی کس قدر ضرورت پیش آتی ہے۔جب گرمی کے موسم میں انسان کو پیاس لگتی ہے، ہونٹ خشک ہوتے ہیں، گھر میں دودھ، برف، مزہ دار شربت موجود ہیں مگر ایک روزہ داران کو نہیں پیتا۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کے مولیٰ کریم کی اجازت نہیں کہ ان کو استعمال کرے۔بھوک لگتی ہے ہر ایک قسم کی نعمت زردہ، پلاؤ ، قورمہ، فرنی وغیرہ گھر میں موجود ہیں۔اگر نہ ہوں تو ایک آن میں اشارہ سے تیار ہو سکتے ہیں مگر روزہ داران کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس کے مولیٰ کریم کی اجازت نہیں۔پھر فرمایا کہ روزہ دار مرد اپنی بیویوں کے قریب نہیں جاتے صرف اس لئے کہ اگر جاؤں گا تو خدا تعالیٰ ناراض ہوگا ، اس کی حکم عدولی ہوگی۔ان باتوں سے روزہ کی حقیقت ظاہر ہے کہ جب انسان اپنے نفس پر یہ تسلط پیدا کر لیتا ہے کہ گھر میں اس کی ضرورت اور استعمال کی چیزیں موجود ہیں مگر اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے وہ حسب تقاضائے نفس ان کو استعمال نہیں کرتا تو جو اشیاء اس کو میسر نہیں ان کی طرف نفس کو کیوں راغب ہونے دے گا۔رمضان شریف کے مہینہ کی بڑی بھاری تعلیم یہ ہے کہ کیسی ہی شدید ضرورتیں کیوں نہ ہوں مگر خدا کا ماننے والا خدا ہی کی رضا مندی کے لئے ان سب پر پانی پھیر دیتا ہے اور ان کی پرواہ نہیں کرتا۔قرآن شریف روزہ کی حقیقت اور فلاسفی کی طرف خود اشارہ فرماتا ہے اور کہتا ہے ﴿يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا