خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 413

$2003 413 خطبات مسرور میں ایسے ہزاروں لاکھوں نمونے بکھرے پڑے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے وقت میں لاکھوں کا ذکر کیا اب تو اور بھی بہت بڑھ چکے ہیں جنہوں نے اپنے اخلاص اور اپنی قربانیوں کے بڑے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جن کے وفا، اخلاص ، تعلق ،محبت ، اطاعت کے واقعات سامنے نہیں آئے۔یہ لوگ خاموشی سے آئے اور محبت و تعلق وفا اور اطاعت کی مثالیں رقم کرتے ہوئے خاموشی سے چلے گئے۔ایسے مخلصین کی اولادوں کو چاہئے کہ اپنے ایسے بزرگوں کے واقعات قلمبند کریں اور جماعت کے پاس محفوظ کروائیں اور اپنے خاندانوں میں بھی ان روایتوں کو جاری کریں اور اپنی نسلوں کو بھی بتاتے رہیں کہ ہمارے بزرگوں نے یہ مثالیں قائم کی ہیں اور ان کو ہم نے جاری رکھنا ہے۔جہاں ہم ان بزرگوں پر رشک کرتے ہیں کہ کس طرح وہ قربانیاں کر کے امام الزمان کی دعاؤں کے وارث ہوئے وہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ آج بھی ان دعاؤں کو سمیٹنے کے مواقع موجود ہیں۔آئیں اور ان وفاؤں، اخلاص، اطاعت، تعلق اور محبت کی مثالیں قائم کرتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں۔یادرکھیں جب تک یہ مثالیں قائم ہوتی رہیں گی زمینی مخالفتیں ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرہ کو ہمیشہ یادرکھیں کہ زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے“۔ان تبدیلیوں کو غیروں نے بھی دیکھا اور ان کا اعتراف کیا اور اتنی واضح اور کھلی تبدیلیاں تھیں کہ وہ مجبور تھے کہ اعتراف کرتے۔اور یہ مان لیا کہ زمانہ کے امام کو مان کر احمد یوں میں بہت ساری تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں لیکن ان کا رویہ وہی ہے کہ میں نہ مانوں کی رٹ لگی رہتی ہے۔بہر حال اس اعتراف کے چند نمونے میں پیش کرتا ہوں۔علامہ اقبال نے لکھا کہ ”پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں“۔(قومی زندگی اور ملت بیضاء پر ايک عمرانی نظر صفحه ٨٤ علامہ نیاز فتح پوری نے حضرت مسیح موعود کے متعلق لکھا: اس میں کلام نہیں کہ انہوں نے یقیناً اخلاق اسلامی کو دوبارہ زندہ کیا اور ایک ایسی جماعت پیدا کر کے دکھادی جس کی زندگی کو ہم یقیناً اسوۂ نبی کا پر تو کہہ سکتے ہیں۔