خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 410

$2003 410 خطبات مسرور شادی ہوئی جس کا نام حضرت اُم طاہر ، مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا تھا۔(روزنامه الفضل ،قادیان یکم اگست ١٩٤٤ ء صفحه ١ - ٢ ـ بحواله سیرت سید عبدالستار شاه صاحب صفحه ۱۲۲ تا ١٢٤ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ انہی دنوں میں جب کہ متواتر یہ وحی خدا کی مجھ پر ہوئی۔اور نہایت زبر دست اور قومی نشان ظاہر ہوئے۔اور میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا دلائل کے ساتھ دنیا میں شائع ہوا۔خوست علاقہ حدود کا بل میں ایک بزرگ تک جن کا نام اخوند زادہ مولوی عبداللطیف ہے کسی اتفاق سے میری کتا ہیں پہنچیں اور وہ تمام دلائل جو نقل اور عقل اور تائیدات سماوی سے میں نے اپنی کتابوں میں لکھے تھے ( یعنی اللہ تعالیٰ کی تائید سے میں نے اپنی کتابوں میں لکھے تھے ) وہ سب دلیلیں ان کی نظر سے گزریں اور چونکہ وہ بزرگ نہایت پاک باطن اور اہل علم اور اہل فراست اور خدا ترس اور تقوی شعار تھے اس لئے ان کے دل پر ان دلائل کا قومی اثر ہوا اور ان کو اس دعوی کی تصدیق میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔اور ان کے پاک کانشنس نے بلا توقف مان لیا کہ یہ شخص منجانب اللہ ہے اور یہ دعوی صحیح ہے۔تب انہوں نے میری کتابوں کو نہایت محبت سے دیکھنا شروع کیا اور ان کی روح جو نہایت صاف اور مستعد تھی میری طرف کھینچی گئی یہاں تک کہ ان کے لئے بغیر ملاقات کے دور بیٹھے رہنا نہایت دشوار ہو گیا۔آخر اس زبردست کشش اور محبت اور اخلاص کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس غرض سے کہ ریاست کابل سے اجازت حاصل ہو جائے حج کے لئے مصمم ارادہ کیا اور امیر کابل سے اس سفر کے لئے درخواست کی۔چونکہ وہ امیر کابل کی نظر میں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے جاتے تھے اس لئے نہ صرف ان کو اجازت ہوئی بلکہ امداد کے طور پر کچھ روپیہ بھی دیا گیا۔سو وہ اجازت حاصل کر کے قادیان میں پہنچے اور جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعوے کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں۔اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا۔اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا“۔(تذكرة الشهادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۹ - ۱۰) پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت خلیفہ اول کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ :