خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 394
394 $2003 خطبات مسرور دل سے ایمان لائے اور سچے دل سے اس طرف کو اختیار کیا۔اور اس راہ کے لئے ہر ایک دکھ اٹھانے کے لئے طیار ہیں۔لیکن جس نمونہ کو اس جواں مرد نے ظاہر کر دیا۔اب تک وہ قوتیں اس جماعت کی مخفی ہیں۔خدا سب کو وہ ایمان سکھاوے اور وہ استقامت بخشے جس کا اس شہید مرحوم نے نمونہ پیش کیا ہے۔یہ دنیوی زندگی جو شیطانی حملوں کیساتھ ملی ہوئی ہے کامل انسان بننے سے روکتی ہے۔اور اس سلسلہ میں بہت داخل ہوں گے مگر افسوس کہ تھوڑے ہیں کہ یہ نمونہ دکھائیں گے۔(تذکرة الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۵۷-۵۸) پھر آپ فرماتے ہیں:۔شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْي (سورة طه: ۷۵) افسوس کہ یہ امیر زیر آیت مَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا) (النساء : ۹۴) داخل ہو گیا۔اور ایک ذرہ خدا تعالیٰ کا خوف نہ کیا۔اور مومن بھی ایسا مومن کہ اگر کابل کی تمام سرزمین میں اُس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کرنا لا حاصل ہے۔ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں۔جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں۔اور زن و فرزند کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا۔اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے۔میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔“ (تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد نمبر ٢٠ صفحه ٦٠) پھر فرماتے ہیں : ” جب میں اس استقامت اور جانفشانی کو دیکھتا ہوں جو صاحبزادہ مولوی محمد عبداللطیف مرحوم سے ظہور میں آئی تو مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کر گئے اس خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے 66 جو صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف کی روح رکھتے ہوں اور ان کی روحانیت کا ایک نیا پودا ہوں۔“ (تذکرة الشهادتين روحانی خزائن جلد ۲۰ مطبوعه لندن صفحه ٧٥) آج سے ٹھیک سو سال پہلے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف ید کو شہید کیا گیا تھا۔