خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 390

390 $2003 خطبات مسرور واسطے چھوڑی تھی اس میں دین کی بہتک ہوتی ہے۔پچھلے دنوں میں ان کو ایک نوکری دوسوروپے ماہوار کی ملتی تھی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔خاکساری کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی گزاردی۔صرف عربی کتابوں کے دیکھنے کا شوق رکھتے تھے۔اسلام پر جو اندرونی بیرونی حملے پڑتے تھے ان کے اندفاع میں عمر بسر کر دی۔باوجود اس قدر بیماری اور ضعف کے ہمیشہ ان کی قلم چلتی رہتی تھی۔(سیرت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفحه (۱۰۸ حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اپنے بھائی کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ : ” جن امور کے لئے میں نے قادیان میں سکونت اختیار کی میں نہایت صفائی سے ظاہر کرتا ہوں کہ مجھ کو حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود کی بیعت کئے ہوئے بارہ سال ہو گئے اور میں اپنی شومئی طالع سے گیارہ سال گھر میں ہی رہتا تھا اور قادیان سے مہجور تھا صرف چند دنوں گاہ گاہ یہاں آتا رہا اور دنیا کے دھندوں میں پھنس کر بہت سی اپنی عمر ضائع کی۔آخر جب سوچا تو معلوم کیا کہ عمر تو ہوا کی طرح اڑ گئی اور ہم نے نہ کچھ دین کا بنایا اور نہ دنیا کا۔یہاں میں چھ ماہ کے ارادہ سے آیا تھا (یعنی قادیان ) مگر یہاں آکر میں نے اپنے تمام معاملات پر غور کیا تو آخر یہی دل نے فتویٰ دیا کہ دنیا کے کام دین کے پیچھے لگ کر تو بن جاتے ہیں مگر جب دنیا کے پیچھے انسان لگتا ہے تو دنیا بھی ہاتھ نہیں آتی اور دین بھی برباد ہو جاتا ہے اور میں نے خوب غور کیا تو میں نے دیکھا کہ گیارہ سال میں نہ میں نے کچھ بنایا اور نہ میرے بھائی صاحبان نے کچھ بنایا۔اور دن بدن ہم باوجود اس مایوسانہ حالت کے دین بھی برباد کر رہے ہیں۔آخر یہ سمجھ کر کہ کار دنیا کسے تمام نہ کر د، کوٹلہ کو الوداع کہا اور میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں ہجرت کرلوں۔سوالحمد للہ میں بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے کوٹلہ سے ہجرت کر لی ہے اور شرعاً مہاجر پھر اپنے وطن میں واپس اپنے ارادہ سے نہیں آسکتا۔یعنی اس کو گھر نہیں بنا سکتا۔ویسے مسافرانہ وہ آئے تو آئے۔پس اس حالت میں میرا آنا محال ہے۔میں بڑی خوشی اور عمدہ حالت میں ہوں۔ہم جس شمع کے پروانے ہیں اس سے الگ کس طرح ہو سکتے ہیں۔۔میرے پیارے بزرگ بھائی میں یہاں خدا کے لئے آیا ہوں اور میری دوستی اور محبت بھی خدا ہی کے لئے ہے۔میں کوٹلہ سے الگ ہوں۔مگر کوٹلہ کی حالت زار سے مجھ کو سخت رنج ہوتا ہے۔