خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 386
386 $2003 خطبات مسرور گردن میں ڈال کر آپ نے دنیا طلبی کی خواہش ہی دل سے نکال دی۔مدرسہ احمدیہ کی ملازمت کا سارا عرصہ ایک مختصر سے مکان میں گزار دیا جو دراصل ایک چپڑاسی کے بھی لائق نہ تھا۔جب حضور کے در کی غلامی کی خاطر دنیا بھر کو چھوڑ دیا تو دنیوی چیزوں کی راحت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔(اصحاب احمد جلد پنجم حصه سوم صفحه (۹) پھر یہاں دوبارہ مثال ہے مولوی برہان الدین صاحب کی ، عاجزی کے بارہ میں۔ایک دفعہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو خدا جانے کہاں خیال پہنچا کہ رونا ہی شروع کر دیا۔حضور نے بہت پیار سے پوچھا کہ مولوی صاحب خیر تو ہے؟ عرض کیا حضور پہلے میں کوٹھی بنا، پھر بولی بنا، پھر غزنی بنا، اب مرزائی بنا ہوں۔رونا تو اس بات کا ہے کہ عمر اخیر ہوگئی اور میں جھڈ و کا جھڈ وہی رہ گیا۔یعنی پہلے میں نے کو ٹھے والے پیر صاحب کی قدم بوسی حاصل کی۔اس کے بعد باؤلی صاحب والے بزرگ کی خدمت میں رہا۔اس کے بعد مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی خدمت میں پہنچا۔اب میں حضور کی خدمت میں آگیا ہوں۔رونا تو اس بات کا ہے کہ میں وہی نالائق کا نالائق ہی رہا۔(یہ عاجزی تھی ان کی )۔اس پر حضور نے مولوی صاحب کو بہت محبت پیار کیا۔اور تسلی دی۔فرمایا : مولوی صاحب ! گھبرائیں نہیں۔جہاں آپ نے پہنچنا تھا وہاں آپ پہنچ گئے۔اب گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے تب جا کر سکون اور قرار ہوا۔(ماهنامه انصار الله ربوه ستمبر ۱۹۷۷ء صفحه (١٤ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ : جبی فی اللہ سید فضل شاہ صاحب لاہوری اصل سکنہ ریاست جموں نہایت صاف باطن اور محبت اور اخلاص سے بھرے ہوئے اور کامل اعتقاد کے نور سے منور ہیں اور مال و جان سے حاضر ہیں اور ادب اور حسن ظن جو اس راہ میں ضروریات سے ہے ایک عجیب انکسار کے ساتھ ان میں پایا جاتا ہے وہ تہ دل سے کچی اور پاک اور کامل ارادت اس عاجز سے رکھتے ہیں اور تہی تعلق اور حب میں اعلیٰ درجہ انہیں حاصل ہے اور یکرنگی اور وفاداری کی صفت ان میں صاف طور پر نمایاں ہے اور اُن کے برا در حقیقی ناصر شاہ بھی اس عاجز سے تعلق بیعت رکھتے ہیں اور ان کے ماموں منشی کرم الہی صاحب