خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 385
385 $2003 خطبات مسرور قربانی بھی دینی پڑے تو دریغ نہیں کرتے اور کبھی بھی بڑائی بیان کرنے والے یا تکبر ونخوت کا اظہار کرنے والے نہیں ہوتے بلکہ ہر چھوٹے بڑے کے سامنے انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ رہتے ہیں اور انکساری اور عاجزی کے بڑے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہوتے ہیں۔اور الہی جماعتوں کی ترقی کا راز اسی میں ہے کہ جتنے زیادہ سے زیادہ عاجز مسکین لوگ جو فروتنی اور عاجزی کے اعلیٰ نمونے دکھانے والے ہوں وہ نظر آئیں اتنی زیادہ ترقی کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے اور نبی کو ماننے والے بھی ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جیسا کہ پہلے میں نے کہا۔تو انبیاء کی نظر جب ایسے دلوں پر پڑتی ہے تو انہیں مزید جلا بخشتی ہے، انہیں مزید چمکا دیتی ہے۔اور وہ جو عاجزی دکھانے والے لوگ ہوتے ہیں ان کو اگر دوسروں کی خاطر اپنی جگہ چھوڑ کر اگر جوتیوں میں بھی بیٹھنا پڑے تو وہ بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔لیکن مامور زمانہ کی نظر اتنی قیافہ شناس ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کو پہچان لیتی ہے اور پھر اس عاجزی کا بدلہ دینے کے لئے اور اپنی جماعت کو سمجھانے کے لئے کہ میری جماعت میں عاجز اور مسکین کا مقام ہی سب سے اعلیٰ ہے۔عاجز انسانوں کو وہاں سے اٹھا کر اپنے پاس بیٹھا لیتے ہیں اور کھانے کے وقت بلا کر اپنے ساتھ اپنی پلیٹ میں کھانا کھلاتے ہیں۔تو یہ قدر بھی انبیاء ان کی اس لئے کرتے ہیں کہ اس عاجزی کی وجہ سے ایسے لوگ دین کو جلد قبول کرتے ہیں اور دینی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہونے والے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ غریب لوگ تکبر نہیں کرتے اور پوری تواضع کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں۔فرمایا : میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دولت مندوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس سعادت کا عشر عشیر بھی حاصل کر سکیں جس کو غریب لوگ کامل طور پر حاصل کر لیتے ہیں۔اس لئے آپ نے فرمایا تھا کہ جماعت میں شامل ہونے کے لئے عاجزی شرط ہے۔تاکہ دین کو صحیح طور پر سمجھ سکو اور اس پر عمل کر سکو۔اب یہ تبدیلیاں کس طرح ہوئیں اس کے چند نمونے میں پیش کرتا ہوں۔حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جید عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک آسوده حال خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔اور اس کے باوجود آپ کی پاکیزگی ، انکسار اور سادگی قابل مثال تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دامن سے وابستہ ہو کر اور حضور کی غلامی کا جوا