خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 384

384 $2003 خطبات مسرور پھر ہمارے ایک مربی تھے یونس خالد صاحب وہ لکھتے ہیں کہ: وی وی کا ہلو صاحب بذریعہ کشف احمدیت ہوئے تھے۔مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب کے زمانے میں۔پھر بعد میں وہ جماعت احمد یہ سیرالیون کے امیر بھی رہے۔احمدی ہونے سے پہلے بالکل آزاد ماحول تھا۔اور ان کا ماحول تو اس حد تک آزاد تھا کہ ان کا پیشہ بھی ، ویسے بھی وہ ڈانسر تھے۔لیکن بیعت کے فوراً بعد اپنے اندر تبدیلی پیدا کی۔تقویٰ و طہارت عبادت، خدا خوفی اور دیانت میں ایک مقام بنالیا۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی ترقیات سے نوازا۔اور آپ علاقہ کے پیرا ماؤنٹ چیف بھی تھے۔جس علاقہ کے پیراماؤنٹ چیف تھے وہاں ہیروں کی بہت بڑی کا نہیں تھیں۔آپ صاحب اختیار تھے۔کیونکہ ان علاقوں میں چیف کافی اختیار والے ہوتے ہیں۔آپ اگر چاہتے تو لاکھوں کروڑوں روپیہ کا فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن احمدیت کی حسین اور پاکیزہ تعلیم کی وجہ سے یہ دولت اپنے اوپر حرام سمجھی اور سادہ اور درویشانہ زندگی گزارتے رہے۔اور اونچی سطح میں بھی مشہور تھا کہ مسٹر وی وی کاہلو ایک انتہائی دیانت دار پیراماؤنٹ چیف ہیں۔نہ خود درشوت لیتا ہے اور نہ ہی عملہ کو لینے دیتا ہے۔تو کہتے ہیں کہ جب آپ بیمار ہوئے۔ایک دن میں ان کی عیادت کے لئے گیا تو مجھے بلا کر کہتے ہیں کہ یونس ! میری آنکھوں کے سامنے ہر وقت سبز رنگ کا کلمہ طیبہ لکھا ہوتا ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے انہیں کہا کہ چیف آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ہے اور عشق ہے۔یہ اس کا نتیجہ ہے۔تو کہتے ہیں میں دو ماہ تک جاتا رہا اور وہ یہی کہتے رہے کہ کلمہ طیبہ سبز رنگ کی روشنی سے ہمیشہ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔پھر جب آپ ہسپتال میں داخل ہوئے تو نزع کی حالت طاری ہوئی تو ایک احمدی دوست مسٹر کو جی نے ان کا بازو پکڑ کر کہا کہ چیف پڑھو لا الہ الا الله۔آپ نے لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ، پڑھا۔پھر مسٹر کو جی نے کہا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله ، آپ نے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ پڑھا اور پڑھتے ہی سر جھک گیا ساتویں شرط یہ بھی تھی کہ عاجزی اور خوش خلقی اور مسکینی وغیرہ کی طرف توجہ رہے گی۔تو انبیاء کو تو زیادہ تر وہی لوگ مانتے ہیں جو غریب مزاج اور مالی لحاظ سے کم وسعت والے بھی ہوں لیکن قربانیوں میں امراء سے زیادہ حوصلہ کے ساتھ اپنا مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں بلکہ جان کی