خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 383

383 $2003 خطبات مسرور اور کمزوری کے تعہد کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ کی ماہ تک موسم سرما میں صبح کی نماز محلہ دار الفضل سے آکر دارالرحمت میں اس لئے ادا کرتے رہے کہ مکرم مولا نا غلام رسول صاحب را جیکی اس مسجد میں درس قرآن دیا کرتے تھے۔اور وہ ان کے حقائق و معارف سے مستفیض ہوں۔اور پھر رمضان المبارک میں جو درس مسجد اقصیٰ میں ہوتا اس میں بھی التزام کے ساتھ شریک ہوتے اور قرآن کریم کو کثرت سے پڑھتے اور غور سے پڑھتے جہاں خود فائدہ اٹھاتے وہاں دوسروں کو بھی شامل کرتے۔عمر کے آخری حصہ میں کہتے ہیں دن میں کئی کئی بار جب بھی دیکھو قرآن شریف پڑھ رہے ہوتے تھے۔اور کاپی اور قلم پاس رکھتے۔جب کسی آیت کی لطیف تفسیر سمجھ میں آتی اس کو نوٹ کرتے اور بعد میں اپنے گھر والوں کو بھی سناتے۔مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ اس وقت جب وہ گھر والوں کو سنار ہے ہوتے تو ان کے چہرے سے یوں معلوم ہوتا کہ آپ کی دلی خواہش ہے کہ آپ کی اولا د قرآن کریم کی عاشق ہو۔(اصحاب احمد جلد ۱ صفحه ١٢٤ - ١٢٥ گیمبیا کے ایک عیسائی نوجوان نے احمدیت قبول کی تو ماں نے اس کی شدید مخالفت شروع کر دی۔پہلے تو وہ برداشت کرتا رہا مگر جب اس کی ماں نے قرآن کریم کی توہین شروع کی تو گھر چھوڑ کر نکل گیا اور دوبارہ اس گھر میں نہیں گیا۔(ضمیمه ماہنامہ انصار الله ستمبر ۱۹۸۷ء صفحه ۶) تو اس زمانہ میں بھی افریقہ کے دور دراز ملکوں میں بھی یہ معجزے رونما ہورہے ہیں۔اسلام میں چار شادیوں تک کی اجازت ہے جس کو بعض لوگ حکم بنا لیتے ہیں، بہر حال اجازت ہے۔تو افریقہ میں رواج ہے کہ جتنا بڑا کوئی آدمی ہو، یا پیسے والا ہو یا چیف ہو تو بعض دفعہ بعض قبائل میں چار سے زیادہ نو دس تک شادیاں کر لیتے ہیں۔سیرالیون کے علی روجرز صاحب نے جب احمدیت قبول کی تھی تو اس وقت وہ جوان تھے اور ان کی بارہ بیویاں تھیں۔جماعت کے مربی مولانا نذیر احمد صاحب علی نے انہیں فرمایا کہ اب آپ احمدی ہو چکے ہیں اس لئے قرآنی تعلیم کے مطابق چار بیویاں رکھ سکتے ہیں۔باقی کو بہر حال طلاق اور نان نفقہ دے کر رخصت کریں۔انہوں نے نہ صرف اس ہدایت پر فورا عمل کیا بلکہ ان کے کہنے پر جو پہلی چار بیویاں تھیں وہ اپنے پاس رکھیں اور نوجوان بیویوں کو رخصت کر دیا۔تو یہ تبدیلی ایک انقلاب ہے۔