خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 382

382 $2003 خطبات مسرور کاروبار عطا کئے اور بعضوں کو ابتلاء میں بھی ڈالا۔اور وہ لمبے عرصہ تک کا روبار سے محروم رہے۔لیکن وہ پختگی کے ساتھ اپنے فیصلے پر قائم رہے اور پھر انہوں نے اس گندے کاروبار میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔امرتسر کے ایک غیر از جماعت میاں محمد اسلم صاحب مارچ ۱۹۱۳ ء میں قادیان تشریف لائے تھے۔وہ حضرت خلیفہ اول کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ : ”مولوی نورالدین صاحب نے جو بوجہ مرزا صاحب کے خلیفہ ہونے کے اس وقت احمدی جماعت کے مسلمہ پیشوا ہیں۔جہاں تک میں نے دو دن ان کی مجالس وعظ و درس قرآن شریف میں رہ کر ان کے کام کے متعلق غور کیا ہے مجھے وہ نہایت پاکیزہ اور محض خالص اللہ کے اصول پر نظر آیا۔کیونکہ مولوی صاحب کا طرز عمل قطعا ریاء ومنافقت سے پاک ہے اور ان کے آئینہ دل میں صداقت اسلام کا ایک زبردست جوش ہے جو معرفت تو حید کے شفاف چشمے کی وضع میں قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر کے ذریعے ہر وقت ان کے بے ریاء سینے سے ابل ابل کر تشنگان معرفت توحید کو فیضیاب کر رہا ہے۔اگر حقیقی اسلام قرآن مجید ہے تو قرآن مجید کی صادقانه محبت جیسی کہ مولوی صاحب موصوف میں میں نے دیکھی ہے اور کسی شخص میں نہیں دیکھی۔یہ نہیں کہ تقلیداً ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔نہیں بلکہ وہ ایک زبردست فیلسوف انسان ہے اور نہایت ہی زبر دست فلسفیانہ تنقید کے ذریعہ قرآن مجید کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہے۔کیونکہ جس قسم کی زبر دست فلسفیانہ تفسیر قرآن مجید کی میں نے ان کے درس قرآن مجید کے موقعہ پر سنی ہے غالبا دنیا میں چند آدمی ایسا کرنے کی اہلیت اس وقت رکھتے ہوں گے۔(بدر ۱۳ مارچ ۱۹۱۳ ء حیات نور صفحه ٦١١ - ٦١٢) پھر ایک وصیت ہے جو حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب نے اپنی اولاد کو کی۔فرمایا: قرآن شریف کو اپنا دستور العمل بناؤ اور اتباع سنت کی پیروی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقی اور اشاعت اسلام میں ہمہ تن مصروف رہو اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی انہی امور کی پابندی کے لئے تیار رکھو۔(سیرت سیدعبدالستار شاه صاحب صفحه (۱۹۳) یہ نصیحت تو ہر احمدی کو ہر وقت پیش نظر رکھنی چاہئے۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب لکھتے ہیں حضرت ملک مولا بخش صاحب رضی اللہ عنہ کے بار ہ میں کہ : آپ کو قرآن کریم سے خاص عشق تھا اور قرآنی معارف و حقائق سننے کے لئے باوجود بیماری