خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 381

$2003 381 خطبات مسرور ذات میں ایک پیسہ بھی خرچ نہ کریں۔حضرت منشی صاحب نے وہ ساری رقم غرباء اور مساکین میں تقسیم کر دی۔(اصحاب احمد جلد ۳ ص ۳۳) تو یہی آج کل یہاں یورپ میں رواج ہے، مغرب میں رواج ہے لاٹری کا کہ جولوگ لاٹری ڈالتے ہیں اور ان کی رقمیں نکلتی ہیں وہ قطعاً ان کے لئے جائز نہیں بلکہ حرام ہیں۔اسی طرح جس طرح جوئے کی رقم حرام ہے۔اول تو لینی نہیں چاہئے اور اگر غلطی سے نکل بھی آئی ہے تو پھر اپنے پر استعمال نہیں ہو سکتی۔ایک واقعہ یہیں آپ کے ملک انگلستان کا محترم بشیر آرچرڈ صاحب کا ہے جنہوں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے اندر جو تبدیلیاں پیدا کیں اور اس کے بعد اپنی زندگی وقف کی۔۱۹۴۴ء میں احمدی ہوئے تھے اور قادیان میں کچھ عرصہ دینی تعلیم حاصل کی اور جیسا کہ میں نے کہا ہے اپنی زندگی وقف کر دی۔اور اس کے بعد ان کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب بر پا ہوا۔عبادات الہی اور دعاؤں میں بے انتہا شغف پیدا ہو گیا۔ان کے قادیان کے پہلے دورہ کا سب سے پہلا شمرہ ترک شراب نوشی تھا۔شراب بہت پیا کرتے تھے۔فوری طور پر انہوں نے پہلے شراب ترک کی۔انہوں نے جوئے اور شراب نوشی سے تو بہ کر لی اور اور ان دونوں چیزوں سے ہمیشہ کے لئے کنارہ کشی اختیار کی، ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔الفضل ۱۰ / جنوری ۱۹۷۸ ء ، عظیم زندگی صفحه ۸-۹) اس زمانہ میں بھی ، آج کل بھی چند سال پہلے بعض احمدی یہاں بھی ، جرمنی وغیرہ میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی ایسے کاروبار جن میں ریستورانٹ میں ، ہوٹلوں میں جہاں شراب کا کاروبار ہوتا تھا۔حدیث کے مطابق شراب کشید کرنے والا، شراب پلانے والا ،شراب بیچنے والا، رکھنے والا، ہر قسم کے لوگوں کو کہا گیا کہ یہ جہنمی ہیں اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اعلان فرمایا تھا کہ جو بھی احمدی اس کا روبار میں ملوث ہیں ان کو فوری طور پر یہ کاروبار ترک کر دینا چاہئے ورنہ ان کے خلاف سخت نوٹس لیا جائے گا۔تو خود ہی حضور فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی بھاری تعداد نے اس کا روبار کو ترک کر دیا۔اور بعضوں کو تو خدا تعالیٰ نے فوراً بہت بہتر