خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 380

380 $2003 خطبات مسرور سے نفرت کا اظہار فرمایا۔یہ خبر نیچے احمدیوں تک پہنچی جن میں سے کئی حقہ پیتے تھے اور ان کے حقے بھی مکان میں موجود تھے۔انہیں جب حضور کی ناراضگی کا علم ہوا تو سب حقہ والوں نے اپنے حقے توڑ دیئے اور حقہ پینا ترک کر دیا۔جب عام جماعت کو بھی معلوم ہوا کہ حضور حقہ کو نا پسند فرماتے ہیں تو بہت سے با ہمت احمدیوں نے حقہ ترک کر دیا۔(اصحاب احمد جلد ۱۰ صفحه ١٥٧ یکی از ۳۱۳) مرزا احمد بیگ صاحب ساہیوال بھی روایت کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود نے ایک دفعہ میرے ماموں مرزا غلام اللہ صاحب سے فرمایا کہ مرزا صاحب دوستوں کو حقہ چھوڑنے کی تلقین کیا کریں۔ماموں صاحب خود حقہ پیتے تھے انہوں نے حضور سے عرض کیا بہت اچھا حضور۔گھر آکر اپنا حقہ جو دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اسے توڑ دیا۔ممانی جان نے سمجھا کہ آج شاید حقہ دھوپ میں پڑا رہا ہے اس لئے یہ فعل ناراضگی کا نتیجہ ہے لیکن جب ماموں نے کسی کو کچھ بھی نہ کہا تو ممانی صاحبہ نے پوچھا آج حقے پہ کیا نا راضگی آگئی تھی ؟ فرمایا مجھے حضرت صاحب نے حقہ پینے سے لوگوں کو منع کرنے کی تلقین کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے اور میں خود حقہ پیتا ہوں اس لئے پہلے اپنے حقہ کو توڑا ہے۔چنانچہ ماموں صاحب نے مرتے دم تک حقے کو ہاتھ نہ لگایا اور دوسروں کو بھی حقہ چھوڑنے کی تلقین کرتے رہے۔آج کل یہی برائی ہے حقہ والی جو سگریٹ کی صورت میں رائج ہے۔تو جو سگریٹ پینے والے ہیں ان کو کوشش کرنی چاہئے کہ سگریٹ چھوڑیں۔کیونکہ چھوٹی عمر میں خاص طور پر سگریٹ کی بیماری جو ہے وہ آگے سگریٹ کی کئی قسمیں نکل آئی ہوئی ہیں جن میں نشہ آور چیزیں ملا کر پیا جاتا ہے۔تو وہ نو جوانوں کی زندگی برباد کرنے کی طرف ایک قدم ہے جو دجال کا پھیلا یا ہوا ہے اور بدقسمتی سے مسلمان ممالک بھی اس میں شامل ہیں۔بہر حال ہمارے نو جوانوں کو چاہئے کہ کوشش کریں کہ سگریٹ نوشی کو ترک کریں۔حضرت منشی برکت علی خاں صاحب صحابی حضرت اقدس شملہ میں ملازم تھے۔احمدی ہونے سے پہلے انہوں نے ایک لاٹری ڈالی ہوئی تھی وہ لاٹری نکلی تو ساڑھے سات ہزار کی رقم ان کے حصے میں آئی۔(اس زمانہ میں )۔انہوں نے حضور سے پوچھا تو حضور نے اسے جو اقرار دیا اور فرمایا اپنی (سوانح فضل عمر جلد ۲ صفحه (٣٤)