خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 378

378 $2003 خطبات مسرور میں نہایت عجز و انکسار کے ساتھ دعائیں مانگنے کا پاک نمونہ دکھایا۔جب اخیر میں یس پڑھی گئی اور حضور کی روح مقدس قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے محبوب حقیقی کے حضور حاضر ہوگئی تو حضرت ام المومنین نے فرمایا انا للہ وانا الیہ راجعون اور بس خاموش ہو گئیں کسی قسم کا جزع فزع نہیں کیا۔اندر بعض مستورات نے رونا شروع کیا آپ نے ان عورتوں کو بڑے زور سے جھڑک دیا اور کہا میرے تو خاوند تھے میں نہیں روتی تم رونے والی کون ہو۔یہ صبر و استقلال کا نمونہ ایک ایسی پاک عورت سے جو ناز و نعمت میں پلی ہو اور جس کا ایسا روحانی بادشاہ اور ناز اٹھانے والا مقدس خاوند انتقال کر جائے ، ایک زبر دست اعجاز تھا۔( تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحه ۵۴۷) پھر بچوں کو بھی یہی نصیحت کی کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہارا باپ تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ کر گیا بلکہ دعاؤں کا ایک بڑا عظیم خزانہ چھوڑ کر گئے ہیں جو وقت پر تمہارے کام آتا رہے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام چاہتے تھے کہ آپ کی جماعت میں شامل ہونے والا ہر شخص قرآن کریم کے حکموں پر عمل کرنے والا ہو اور کم از کم عمل کرنے کی کوشش کرنے والا ہو ، اس کو ماننے والا ہو۔اگر ایک حکم کو بھی نہیں مانتا تو فرمایا کہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔آپ چاہتے تھے کہ آپ کے ماننے والے دنیا کی رسموں سے بالا ہو کر دنیا کے لالچوں اور فضول رسموں سے بچنے والے ہوں۔اور انہی اعمال کو بجالانے کی کوشش کرنے والے ہوں جن کا خدا اور اس کے رسول ہو نے حکم دیا ہے۔اور خدا کے رسول نے وہی حکم دیا ہے جو خدا کا قرآن میں حکم ہے۔تبھی تو جب کسی نے حضرت عائشہ سے پوچھا تھا کہ ہمیں آنحضرت ﷺ کے خلق کے بارہ میں بتا ئیں تو آپ نے فرمایا کیا قرآن نہیں پڑھتے۔جو قرآن میں خلق بیان ہوئے ہیں وہی آنحضرت ﷺ کے خلق تھے۔اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو اپنے آقا اور مطاع کی پیروی کرتا ہوں اور قرآن کے ہر حکم کو اپنا دستورالعمل قرار دیتا ہوں۔تم بھی اگر ایسی اتباع کرنے کی کوشش کرو گے تو میری جماعت میں شمار ہو گے اور بیعت کرنے کے بعد پھر اس کے نمونے بھی جماعت نے دکھائے۔سب سے پہلے ایک خاتون کا نمونہ یہاں پیش کرتا ہوں۔یہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ تھیں۔ان کے بھانجے چوہدری بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں۔انہوں نے چوہدری صاحب کو بیان کیا ، چوہدری صاحب نے یہ لکھا ہے یہاں کہ والدہ صاحبہ کو بدعات رسوم سے