خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 34

$2003 34 خطبات مسرور اسی نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے زیادہ ہو۔اور آج آپ دیکھیں کہ کروڑوں میں بدل گیا ہے۔الحمد للہ اور اس آمدنی کو اس سے خیال کر لینا چاہئے کہ سالہال سال سے صرف لنگر خانہ کا ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار تک خرچ ہو جاتا ہے۔“ اس زمانے میں لنگر خانے کا ڈیڑھ ہزار بھی آج کے لاکھوں کے برابر ہے۔" ہے۔" صرف لنگر خانہ کا ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار تک خرچ ہو جاتا ہے۔یعنی اوسط کے حساب سے اور دوسری شاخیں مصارف کی یعنی مدرسہ وغیرہ اور کتابوں کی چھپوائی اس سے الگ ہے۔پس دیکھنا چاہئے کہ یہ پیشگوئی یعنی "الَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کس صفائی اور کس قوت اور شان سے پوری ہوئی۔کیا یہ کسی مفتری کا کام ہے یا شیطانی وساوس ہیں۔ہرگز نہیں۔بلکہ یہ اس خدا کا کام ہے جس کے ہاتھ میں عزت اور ذلت اور ادبار اور اقبال ہے۔( حقيقة الوحى ـ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۹ تا ۲۲۱) یہ انگوٹھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالٰی عنہ کے حصہ میں آئی اور آپ نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد یہ انگوٹھی جو بھی خلیفہ ہو اس کو دی جائے اور یہ خلافت کا ہی ورثہ ہوگا، میرا ذاتی ورثہ نہیں ہوگا۔تو اس کے بعد یہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث، خلیفتہ المسیح الرابع اور یہاں آپ نے بعد میں دیکھ لیا ہو گا وہی انگوٹھی ( یہ انگوٹھی ہے ) مجھے پہنائی گئی ،الحمد للہ اللہ تعالیٰ یہ برکات بھی ہمیشہ جاری رکھے۔ایک روایت ہے کہ حضرت شیخ فضل الہی صاحب نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ میں ڈاک لے کر حضور کی خدمت میں جا رہا تھا جب ڈپٹی شنکر داس کے مکان کے پاس سے گزرا تو مکان کے آگے چبوترہ پر ڈپٹی مذکور چارپائی پر بیٹھا تھا۔مجھے او شیخ ، پکار کر کہا کہ غلام احمد کو کہہ دو کہ لڑکے جب مسجد میں آتے ہیں تو شور ڈالتے ہیں اور باتوں سے بھی کھڑاک کرتے ہیں ( یعنی شور مچاتے ہیں، تنگ کرتے ہیں ) ہم کو تکلیف ہوتی ہے، ان کو منع کر دے کہ وہ آرام سے گزرا کریں۔میں نے حضرت صاحب سے ایسا ہی جا کر عرض کر دیا تو حضور نے فرمایا کہ یہ مکان تو ہمارے قبضہ میں آنے والا ہے، خدا نے ہم کو اس مکان کا وعدہ فرمایا ہے۔( الحكم جلد ۳۸ نمبر ٩ - بتاريخ ١٤ / مارچ ١٩٣٥ ء صفحه ٤)