خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 374

خطبات مس $2003 374 تشھد وتعوذ کے بعد فرمایا گزشتہ جمعہ سے پہلے جمعہ کے خطبے میں میں یہ بیان کر رہا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں ان دس شرائط بیعت پر عمل پیرا ہونے کا عہد کرتے ہوئے شامل ہونے کے بعد احمدیوں میں کیا تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔کچھ واقعات پیش کئے تھے اب اسی مضمون کو مزید آگے بڑھاتا ہوں۔پانچویں شرط میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ عہد لیا تھا کہ تم پرتنگی ترشی ، بلا، مصیبت ، ذلت ورسوائی کے جیسے مرضی حالات ہو جائیں کبھی بھی اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہیں کرنا۔ہاں اس کے فضل مانگتے رہنا ہے لیکن یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ اس کی رضا پر ہمیشہ راضی رہوں گا۔تو اس کے چند عملی نمونے میں پیش کرتا ہوں۔سب سے پہلے تو حضرت خلیفہ مسیح الاول کا نمونہ ہے۔اگست ۱۹۰۵ ء کو آپ کے صاحبزادے عبدالقیوم چند دن خسرہ میں مبتلا رہنے کے بعد وفات پاگئے۔اور اس وقت ان کی عمر قریباً دو سال تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الاول نے جو نمونہ دکھا یا وہ یہ ہے کہ آپ نے سنت نبوی کی متابعت میں پہلے بچے کو بوسہ دیا اس پر آپ کی آنکھیں پرنم ہو گئیں اور فرمایا: ”میں نے بچہ کا منہ اس واسطے نہیں کھولا تھا کہ مجھے کچھ گھبراہٹ تھی بلکہ اس واسطے کہ آنحضرت ﷺ کا بیٹا ابراہیم جب فوت ہوا تھا تو آنحضرت نے اس کا مونہہ چوما تھا اور آپ کے آنسو بہہ نکلے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی مدح کی اور فرمایا کہ جدائی تو تھوڑی دیر کے لئے بھی پسند نہیں ہوتی مگر ہم خدا کے فضلوں پر راضی ہیں۔اسی سنت کو پورا کرنے کے واسطے میں نے بھی اس کا منہ کھولا اور چوما۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور خوشی کا مقام