خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 369
خطبات مسرور 369 ہیں کہ اس طرح کرو گے تو ہمیشہ محفوظ رہو گے، ہر دشمن سے بچے رہو گے۔$2003 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ” با جماعت نماز ادا کرنا گھر اور بازار میں اکیلے پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ اجر کا موجب ہے۔تم میں سے جب کوئی اچھی طرح وضو کرے اور مسجد میں محض نماز کی خاطر آئے تو وہ کوئی قدم نہیں اٹھا تا مگر اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلہ میں اس کی ایک خطا معاف کر دیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند فرماتا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے۔اور جب وہ مسجد میں آجاتا ہے تو جب تک نماز کے لئے وہاں رکا ہے نماز ہی میں شمار ہوگا۔اس کے لئے ملائکہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اللَّهُمَّ اغْفِرْلَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ یہ حالت اس وقت تک رہتی ہے جب تک کہ وہ کسی اور کام یا بات میں مصروف نہیں ہوتا۔(صحيح بخارى كتاب الصلوة باب الصلوة في المسجد) حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو ہماری اس مسجد میں اس نیت سے داخل ہوا کہ بھلائی کی بات سیکھے یا بھلائی کی بات جانے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہوگا۔اور جو مسجد میں کسی اور نیت سے آئے تو وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کسی ایسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس کو حاصل نہیں ہوسکتی۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۳۵۰ مطبوعه بيروت) | مسجد میں آ کر نوافل پڑھنا بھی مستحب ہے۔حضرت ابوقتادہ الاسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ بیٹھنے سے قبل دورکعات (نفل) ادا کرے۔(بخاری کتاب الصلوة باب اذا دخل المسجد فليركع ركعتين) صلى الله حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت مہ جب مسجد میں داخل ہونے لگتے تو یہ دعا پڑھتے۔اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اور اللہ کے رسول پر سلامتی ہو، یعنی اللہ کا نام لے کر مسجد میں داخل ہوں یعنی یہ کہیں ” بِسْمِ اللهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلَ اللهِ “ اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ کے رسول پر سلامتی ہو۔پھر کہے "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِی“ اے اللہ میرے گناہ