خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 368

368 $2003 خطبات مسرور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص اس وقت تک نماز میں مشغول شمار ہوتا ہے جب تک وہ نماز کے انتظار میں ہوتا ہے۔اور تم میں سے ہر شخص کے لئے فرشتے یہ دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ ! تو اسے بخش دے۔اے اللہ ! تو اس پر رحم فرما۔جب تک وہ مسجد میں ہو۔(ترمذی، کتاب الصلوة، باب ماجاء فى القعود في المسجد۔۔۔۔۔۔ہر انسان جو اس معاشرے میں رہ رہا ہے اس کی چکا چوند سے متاثر ہوتا ہے۔مادیت کا لالچ اس پر بار بار حملہ کر رہا ہوتا ہے۔شیطان اپنا پورا زور لگارہا ہوتا ہے کہ میں اس شخص کو کسی طرح قابو کروں اور اس کو خدا سے دور لے جاؤں۔بعض دفعہ یہی ہوتا ہے کہ چلو یہ کام ہے، دنیا داری کا کام چھوٹا سا یہ پہلے کر لو، نماز بعد میں پڑھ لیں گے ابھی کافی وقت ہے۔تو یہ شخص اپنی روحانی سرحد کے اس دائرے کو کمزور کر رہا ہوتا ہے اور جب یہ دائرہ کمزور ہو جاتا ہے تو پھر شیطان حملہ کر کے اس کو بہت دور لے جاتا ہے۔بعض دفعہ یہی ہوتا ہے کہ چلو پڑھ لیں گے، ٹھہر کر پڑھ لیں گے۔تو پھر وہ نماز رہ ہی جاتی ہے یا پھر اتنی جلدی میں پڑھی جاتی ہے جیسے جلدی جلدی کوئی مصیبت گلے سے اتاری جائے۔تو اس سستی سے بچنا چاہئے۔مومن کا دل تو نماز کی طرف رہنا چاہئے اور اس مادی دنیا میں تو آج کل یہ سب سے بڑا جہاد ہے۔حدیث میں آتا ہے۔66 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا میں آپ کو وہ عمل نہ بتاؤں جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور درجات کو بلند فرماتا ہے۔فرمایاوہ یہ ہے کہ : ” جی نہ چاہتے ہوئے بھی کامل وضو کرنا، اور مسجد کی طرف زیادہ چل کر جانا، نیز ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔یہ رباط ہے، یہ رباط ہے، یہ رباط ہے (سرحدوں پر گھوڑے باندھنا یعنی تیاری جہاد “۔(سنن النسائي، كتاب الطهارة، باب الامر باسباغ الوضوء تو یہ ہر مومن کا فرض ہے کہ اپنی روحانی سرحدوں کی حفاظت کرے کیونکہ جب سب مل کر اس طرح سرحدوں کی حفاظت کریں گے اور مسجدوں میں آئیں گے اور مسجدوں کو آباد کریں گے تو پھر کوئی دشمن نہیں جو کبھی ہمیں نقصان پہنچا سکے۔انشاء اللہ۔اور آر ہمیں یہ خوشخبری دے رہے