خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 367

$2003 367 خطبات مسرور والوں کو مکمل نور عطا ہوگا اور اس کی بشارت دی گئی ہے۔الله پھر حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو مسجد میں عبادت کے لئے آتے جاتے دیکھو تو تم اس کے مومن ہونے کی گواہی دو (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کی مساجد کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔(ترمذی کتاب التفسير - تفسير سورة (التوبه عروہ بن زبیر نے اپنے داداغر وہ کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ ان سے رسول اللہ اللہ کے ایک صحابی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺہ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم اپنے محلوں میں مسجد میں بنائیں اور یہ کہ ہم ان کوعمدہ تعمیر کریں اور ان کو پاک صاف رکھیں۔(مسند احمد بن حنبل) تو مسجد کی صفائی کا بھی بہت خیال رکھنا چاہئے۔مسجد کی صفائی کے ضمن میں ایک حدیث آتی ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے سامنے میری اُمت کے اجر پیش کئے گئے یہاں تک کہ وہ خس و خاشاک بھی اجر کا باعث ہے جسے ایک شخص مسجد سے باہر پھینکتا ہے۔مسجد کی صفائی کے لئے اگر کوئی تنکا بھی اٹھا کر باہر پھینکتا ہے تو اس کا بھی اجر ملتا ہے۔پھر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نص نے مسجد سے تکلیف دینے والی چیز نکالی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا۔(سنن ابن ماجه، کتاب المساجد، باب تطهير المساجد وتطييبها) پس اس مسجد میں بھی دنیا میں جہاں جہاں بھی جماعت احمدیہ کی مساجد ہیں ہمیں ان کی صفائی کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔صرف یہ نہیں کہ بنالی ہے اور اس کے بعد اس کی صفائی اور Maintenance کی طرف توجہ نہ ہو۔بلکہ بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔اور ہماری مساجد کی صفائی کے معیار بہت بلند ہونے چاہئیں۔آنحضرت یہ تو بعض اوقات گند دیکھ کے خود بھی صفائی کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔تو جماعتی نظام کو اس طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بعض لوگ اگر امام کے انتظار میں کچھ دیر بیٹھنا پڑے تو بڑ بڑا نا شروع کر دیتے ہیں، بار بار گھڑیاں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ان کو یہ حدیث پیش نظر رکھنی چاہئے۔