خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 360 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 360

360 $2003 خطبات مسرور زمانہ ہوگا جیسے کہ ایک دوسری آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے بھی پہلی قوموں کی طرح راہ ہدایت کو بھلا دیا اور خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنالیا۔اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہمارے سے زیادہ اسلام پر عمل کرنے والا کوئی نہیں۔اور اس تکبر میں اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانے کے امام کو پہچاننے سے نہ صرف انکار کر رہے ہیں بلکہ آنے والے امام کا پہلی قوموں کی طرح استہزاء بھی کر رہے ہیں، اس کا تمسخرانہ انداز میں ذکر کرتے ہیں یا گندہ دینی کی انتہاء تک پہنچے ہوئے ہیں تو ایسے لوگوں پر ، ایسے گروہ پر، گمراہی لازم ہو چکی ہے۔وہ ضلالت کے گڑھے میں جا پڑے ہیں۔حدیث میں آتا ہے حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانہ کے لوگوں کی مسجد میں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔(مشكوة، كتاب العلم الفصل الثالث صفحه ۳۸ - كنز العمال جلد ٦ صفحه ٤٣) حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اسلام کی ظاہری اور جسمانی میں بھی ضعف آ گیا ہے۔وہ قوت اور شوکت اسلامی سلطنت کو حاصل نہیں اور دینی طور پر بھی وہ بات جو مخلصین کہ الدین میں سکھائی گئی تھی اس کا نمونہ نظر نہیں آتا۔اندرونی طور پر اسلام کی حالت بہت ضعیف ہوگئی ہے اور بیرونی حملہ آور چاہتے ہیں کہ اسلام کو نابود کر دیں۔ان کے نزدیک مسلمان کتوں اور خنزیروں سے بھی بدتر ہیں۔ان کی غرض اور ارادے یہی ہیں کہ وہ اسلام کو تباہ کر دیں اور مسلمانوں کو ہلاک کر دیں۔اب خدا کی کتاب کے بغیر اور اس کی تائید اور روشن نشانوں کے سوا ان کا مقابلہ ممکن نہیں۔اور اسی غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس سلسلے کو قائم کیا ہے۔پھر فرمایا: اس وقت اسلام جس چیز کا نام ہے اس میں فرق آگیا ہے۔تمام اخلاق ضمیمہ بھر گئے ہیں اور وہ اخلاص جس کا ذکر مخلصین کہ الد ین ا میں ہوا ہے، آسمان پر اٹھ گیا ہے۔خدا کے ساتھ وفاداری، اخلاص ، محبت اور خدا پر توکل کالعدم ہو گئے ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے