خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 353

353 $2003 خطبات مسرور سے نرمی کا سلوک نہ کریں۔یہ کہ کر آپ نے دروازہ اور کھڑ کی کھول دی۔وہ آپ کی گفتگو سے حیران ہوا اس گفتگو کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ آپ کے لوٹے کو ہاتھ ڈالتے ہی وہ کہتا : مولوی صاحب آپ تسلی سے نماز پڑھیں ہمیں آپ کے کام کا خیال رکھوں گا۔ایک دن آپ کا روکھا سوکھا کھانا دیکھ کر بھی اس پر بہت اثر ہوا کہ ان کا یہ حال ہے۔اصحاب احمد جلد ۳ صفحه (۱۱ یہاں انگلستان میں ایک ہمارے پرانے احمدی بلال نعل صاحب جب احمدی ہوئے تو انہوں نے اپنے لئے بلال نام کا انتخاب کیا اور پھر حضرت بلال ہی کے تتبع میں انہوں نے نماز کی خاطر بلانے میں (اذان دینے میں ) ایک خاص نام پیدا کیا۔انہیں سچ مچ نماز کے لئے بلانے کا از حد شوق تھا۔(ماهنامه انصار الله جون ١٩٦٥ صفحه (٣٦) پھر یہ ہے شرط کہ نفسانی جوشوں کو دبانا، اس میں کیا مثالیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک خوبی بیان فرماتے ہیں کہ ہندوؤں کے ساتھ جلسہ تھا اور وہاں جھگڑا ہو گیا اور بڑے ضبط کا نمونہ دکھایا جماعت نے۔فرماتے ہیں کہ: اگر پاک طبع مسلمانوں کو اپنی تہذیب کا خیال نہ ہوتا اور بموجب قرآنی تعلیم کے صبر کے پابند نہ رہتے اور اپنے غصہ کو تھام نہ لیتے تو بلا شبہ یہ بدنیت لوگ ایسی اشتعال دہی کے مرتکب ہوئے تھے کہ قریب تھا کہ وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا۔مگر ہماری جماعت پر ہزار آفرین ہے کہ انہوں نے بہت عمدہ نمونہ صبر اور برداشت کا دکھایا اور وہ کلمات آریوں کے جو گولی مارنے سے بدتر تھے ان کو سن کر چپ کے چپ رہ گئے“۔اسی طرح فرماتے ہیں کہ : اگر میری طرف سے اپنی جماعت کے لئے صبر کی نصیحت نہ ہوتی اور اگر میں پہلے سے اپنی جماعت کو اس طور سے تیار نہ کرتا کہ وہ ہمیشہ بدگوئی کے مقابل پر صبر کریں تو وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا۔مگر یہ صبر کی تعلیم تھی کہ اس نے ان کے جوشوں کو روک لیا“۔(چشمه معرفت روحانی خزائن نمبر ۲۳ صفحه ۱۰) پھر نفسانی جوشوں کو دبانے کی ایک مثال حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب کی ہے۔عجیب نمونہ ہے۔روایت ہے کہ: ایک روز حضرت شاہ صاحب نماز کی ادائیگی کے لئے نزدیکی مسجد میں تشریف لے گئے۔