خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 354

$2003 354 خطبات مسرور اس وقت ایک سخت مخالف احمدیت چوہدری رحیم بخش صاحب وضو کے لئے مٹی کا لوٹا ہاتھ میں لئے وہاں موجود تھے۔حضرت ڈاکٹر صاحب کو دیکھتے ہی (ڈاکٹر صاحب سرکاری ڈاکٹر تھے، سرکاری ہسپتال میں وہاں تعینات تھے ) مذہبی بات چیت شروع کر دی۔حضرت ڈاکٹر صاحب کی کسی بات پر چوہدری رحیم بخش صاحب نے شدید غصہ میں آکر مٹی کا لوٹا زور سے آپ کے ماتھے پر دے مارا۔لوٹا ماتھے پر لگتے ہی ٹوٹ گیا۔ماتھے کی ہڈی تک ماؤف ہوگئی اور خون زور سے بہنے لگا۔ڈاکٹر صاحب کے کپڑے خون سے لت پت ہو گئے۔آپ نے زخم والی جگہ کو ہاتھ سے تھام لیا اور فور امر ہم پٹی کے لئے ہسپتال چل دئے۔ان کے واپس چلے جانے پر چوہدری رحیم بخش بہت گھبرائے کہ اب کیا ہوگا ؟ یہ سرکاری ڈاکٹر ہیں۔افسر بھی ان کی سنیں گے اور میرے بچنے کی اب کوئی صورت نہیں۔میں کہاں جاؤں! اور کیا کروں ! ؟ وہ ان خیالات میں ڈرتے ہوئے اور سہمے ہوئے ( مسجد ) میں ہی دبکے پڑے رہے۔ادھر ڈاکٹر صاحب نے ہسپتال میں جا کر زخمی سر کی مرہم پٹی کی، دوائی لگائی اور پھر خون آلود کپڑے بدل کر دوبارہ نماز کے لئے اسی مسجد میں آگئے۔جب ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے اور چوہدری رحیم بخش صاحب کو وہاں دیکھا تو دیکھتے ہی آپ مسکرائے اور مسکراتے ہوئے پوچھا کہ : ” چوہدری رحیم بخش ! ابھی آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوا ہے یا نہیں؟“۔یہ فقرہ سنتے ہی چوہدری رحیم بخش کی حالت غیر ہوگئی۔فورا ہاتھ جوڑتے ہوئے معافی کے ملتجی ہوئے اور کہنے لگے کہ شاہ صاحب! میری بیعت کا خط لکھ دیں۔یہ اعلیٰ صبر کا نمونہ اور نرمی اور عفو کا سلوک سوائے الہی جماعت کے افراد کے اور کسی سے سرزد نہیں ہوسکتا۔چنانچہ چوہدری صاحب احمدی ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد ان کے باقی اصحاب خانہ بھی جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔(سیرت حضرت ڈاکٹر عبدالستارشاہ صاحب صفحه ۶۳ شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان ) تو یہ چند نمونے ہیں جو میں نے پیش کئے۔یہ پہلی تین چار شرائط بیعت کے تعلق میں ہیں۔انشاء اللہ کوشش کروں گا کہ آئندہ کچھ اور نمونے بھی پیش کروں کہ لوگوں میں بیعت میں داخل ہونے کے بعد کیا انقلابات آئے تا کہ نئے آنے والوں کو بھی اور آئندہ نسلوں کو بھی پتہ چلے اور وہ بھی اپنے اندر ایسی پاک تبدیلیاں پیدا کریں اور کبھی ان پر رعب دجال نہ آئے۔آمین۔