خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 352
352 $2003 خطبات مسرور ہوا کہ یہ رشد انہیں حضرت اقدس مسیح موعود کی بیعت سے حاصل ہوئی ہے اور والد صاحب کو حضرت صاحب کی بیعت میں شامل کرنے کا ایک بڑا بھاری ذریعہ ہماری تبدیلی تھی۔( یعنی بچوں کی تبدیلی سے والد احمدی ہوئے ) جس نے ان کو حضرت اقدس کی طہارت اور انفاس طیبہ کی نسبت اندازہ لگانے کا اچھا موقعہ دیا۔(اصحاب احمد جلد ۱ صفحه ١٨٦) حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب کا نمونہ، جو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے والد تھے۔ان کے ایک بیٹے کہتے ہیں کہ: ” میری طبیعت پر بچپن سے یہ اثر تھا کہ والد صاحب ( چوہدری نصر اللہ خان صاحب) نماز بہت پابندی کے ساتھ اور سنوار کر ادا فرمایا کرتے تھے اور تہجد کا التزام رکھتے تھے۔میں اپنے تصور میں اکثر والد صاحب کو نماز پڑھتے یا قرآن کریم کی تلاوت کرتے دیکھتا ہوں۔بیعت کر لینے کے بعد فجر کی نماز کبوتراں والی مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔مسجد ہمارے مکان سے فاصلے پر تھی اس لئے والد صاحب گھر سے بہت اندھیرے ہی روانہ ہو جایا کرتے تھے۔(اصحاب احمد جلد ۱۱ صفحه ١٦٣ پھر بلاناغہ نمازوں کی پابندی کے بارہ میں ایک نمونہ پیش کرتا ہوں حضرت بابو فقیر علی صاحب رضی اللہ عنہ کا۔آپ دل بہ یار دست بہ کار پر عمل پیرا تھے۔ایم بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس زمانہ میں انگریزوں کا رعب داب بھی بہت تھا۔وہ کہتا تھا مولوی صاحب! کوئی حادثہ کروا دو گے۔ہر وقت نماز پڑھتے رہتے ہو۔آپ اس کی ایسی باتوں سے بہت تنگ پڑے۔ایک روز دروازہ اور کھڑ کی آپ نے بند کی (دفتر کا ) اور اس کے قریب ہو کر بات کرنے لگے۔تو وہ گھبرا گیا مبادا آپ حملہ کر دیں۔آپ نے اسے اطمینان دلایا کہ میرا ایسا ارادہ نہیں۔میں علیحدگی میں بات کرنا چاہتا ہوں جو یہ ہے کہ آپ دفتر میں قضائے حاجت پر وقت صرف کرتے ہیں۔اسی طرح چائے سگریٹ پینے پر بھی۔پھر مجھے پر معترض کیوں ہیں؟ کہنے لگا یہ امور تو مقتضائے طبیعت ہیں۔آپ نے کہا میں آپ کے ماتحت ہوں، آپ کی فرمانبرداری کروں گا لیکن صرف انہی احکام میں جو فرض منصبی سے متعلق ہوں۔دیگر امور کے متعلق اطاعت مجھ پر فرض نہیں۔اس لئے نمازوں سے آپ کے کہنے پر میں رُک نہیں سکتا۔میری غفلت سے حادثہ رونما ہو یا ٹرین میں تاخیر ہو جائے تو بے شک آپ مجھ