خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 348

$2003 348 خطبات مسرور حیوانی تھی ہم وحشی تھے۔شراب کو پانی کی طرح پیتے تھے۔احمدیت نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا اور ہماری بدیاں ہم سے چھوٹ گئیں اور ہم انسان بن گئے۔تو یہ لوگ اپنے ہی شہر کے ایک پیرا ماؤنٹ چیف اور دیگر اکابر کے سامنے جو ان کی سابقہ عادات و اخلاق سے پوری طرح واقف تھے اپنی تبدیلی بڑی تحدی کے ساتھ بیان کر رہے تھے اور جماعت کی صداقت کے طور پر پیش کر رہے تھے۔(ماهنامه انصار الله جنوری ۱۹۸٤ ء صفحه ۳۱،۳۰) پھر نمازوں کی پابندی اور تہجد کی ادائیگی کے بارہ میں بھی شرائط بیعت میں حکم آتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقوی ترقی پذیر ہے۔اور ایام مباہلہ کے بعد گویا ہماری جماعت میں ایک اور عالم پیدا ہو گیا ہے۔میں اکثر دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں۔نا پاک دل کے لوگ ان کو کا فر کہتے ہیں اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں“۔انجام آتهم روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه (۳۱۵ یہاں پھر میں گھانا کی ایک مثال دیتا ہوں۔ایسی تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کی ہیں لوگوں نے کہ خود میرے تجربے میں آئی کہ لمبا سفر کر کے آیا ہے اور رات کو لیٹ پہنچے ، بارہ بجے کے قریب سونے کا موقعہ ملا۔رات کو جب آنکھ کھلی دیکھا کہ ڈیڑھ دو بجے کا وقت ہوگا۔مسجد میں بیٹھے ہیں اور سجدہ ریز ہیں۔پھر ایک روایت آتی ہے حضرت منشی محمد اسمعیل فرماتے تھے کہ مجھے صرف ایک نما زیاد ہے جو میں نماز با جماعت ادا نہیں کر سکا وہ بھی بیت الذکر سے ایک ضروری حاجت کے لئے واپس آنا پڑا تھا۔اصحاب احمد جلد ۱ صفحه ١٩٦) پھر حضرت منشی محمد اسمعیل صاحب کے بارہ میں ہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کے اپنے شہر سیالکوٹ واپس گئے تو یکدم لوگوں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی سابقہ لغو عادات یعنی تاش کھیلنا اور بازار میں بیٹھ کر گپیں ہانکنا سب چھوڑ دیا ہے اور نماز تہجد با قاعدہ شروع کر دی ہے۔ان کے حالات میں اس قدر غیر معمولی تغیر دیکھ کر سب بہت حیران ہوئے۔اصحاب احمد جلداول صفحه ۲۰۰