خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 346
346 $2003 خطبات مسرور میرا بھروسہ اپنے خالق و مالک پر ہے۔میں ان تعویذوں کوکوئی وقعت نہیں دوں گی۔بچہ دو ماہ کا ہوا تو وہی جے دیوی ملنے کے لئے آئی اور بچے کو پیار کیا اور آپ سے کچھ پار چات اور کچھ رسد اس رنگ میں طلب کی جس سے مترشح ہوتا تھا کہ گویا یہ چیزیں ظفر پر سے بلا ٹالنے کے لئے ہیں۔آپ نے جواب دیا کہ تم ایک مسکین بیوہ عورت ہو۔اگر تم صدقہ یا خیرات کے طور پر کچھ طلب کرو تو میں خوشی سے اپنی توفیق کے مطابق تمہیں دینے کے لئے تیار ہوں۔لیکن میں چڑیلوں اور ڈائنوں کی ماننے والی نہیں۔میں صرف اللہ تعالیٰ کو موت اور حیات کا مالک مانتی ہوں اور کسی اور کا ان معاملات میں کوئی اختیار تسلیم نہیں کرتی۔ایسی باتوں کو میں شرک سمجھتی ہوں اور ان سے نفرت کرتی ہوں اس لئے اس بنا پر میں تمہیں کچھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔جے دیوی نے جواب میں کہا کہ اچھا تم سوچ لو اگر بچے کی زندگی چاہتی ہو تو میرا سوال تمہیں پورا ہی کرنا پڑے گا۔چند دن بعد آپ ظفر کو نسل دے رہی تھیں کہ پھر جے دیوی آگئی اور بچے کی طرف اشارہ کر کے دریافت کیا : اچھا یہی ساہی راجہ ہے؟ آپ نے جواب دیا: ”ہاں یہی ہے“۔جے دیوی نے پھر وہی اشیاء طلب کیں۔آپ نے پھر وہی جواب دیا جو پہلے موقع پر دیا تھا۔اس پر جے دیوی نے کچھ برہم ہو کر کہا: اچھا اگر بچے کو زندہ لے کر گھر لوٹیں تو سمجھ لینا کہ میں جھوٹ کہتی تھی“۔آپ نے جواب دیا: ” جیسے خدا کی مرضی ہوگی وہی ہوگا۔ابھی جے دیوی مکان کی ڈیوڑھی تک بھی نہ پہنچی ہوگی کہ غسل کے درمیان ہی ظفر کو خون کی قے ہوئی اور خون ہی کی اجابت ہوگئی۔چند منٹوں میں بچے کی حالت دگرگوں ہوگئی۔اور چند گھنٹوں کے بعد وہ فوت ہو گیا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی یا اللہ ! تو نے ہی دیا تھا اور تو نے ہی لے لیا۔میں تیری رضا پر شاکر ہوں۔اب تو ہی مجھے صبر عطا کی جیو۔اس کے بعد خالی گود ڈسکہ واپس آگئیں۔اصحاب احمد جلد ۱۱ صفحه ١٥-١٦) دیکھیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بھی کتنے انعامات سے نوازا۔اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جیسا بیٹا انہیں دیا جس نے بڑی لمبی عمر بھی پائی اور دنیا میں ایک نام بھی پیدا کیا۔پھر بیعت کرنے کے بعد نفسانی جوشوں سے کس طرح لوگ محفوظ ہورہے ہیں۔اب اُس زمانے کی نہیں میں اس زمانے کی مثال دیتا ہوں اور وہ بھی افریقہ کے لوگوں کی۔افریقہ کے جو