خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 334

$2003 334 خطبات مسرور میں شامل ہو گے۔کسی بھی معاملے میں مقابلہ بازی نہیں ہونی چاہئے۔بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔اور جو مرضی تمہیں کوئی کہہ دے تم محبت پیار اور خلوص سے پیش آؤ۔ایسی پاک زبان بناؤ، ایسی میٹھی زبان ہو ، اخلاق اس طرح تمہارے اندر سے ٹپک رہا ہو کہ لوگ تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں۔تو تمہارے ماحول میں یہ پتہ چلے، ہر ایک کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ احمدی ہے۔اس سے سوائے اعلیٰ اخلاق سے اور کسی چیز کی توقع نہیں کی جاسکتی۔تمہارے یہ اخلاق بھی دوسروں کو کھینچنے اور توجہ حاصل کرنے کا باعث بنیں گے۔اور پھر یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ مقدمات میں ذاتی مفاد کی خاطر جھوٹی گواہیاں بھی دے دیتے ہیں، جھوٹا کیس بھی اپنا پیش کر دیتے ہیں۔تو فرمایا کہ تمہارا ذاتی مفاد بھی تمہیں سچی گواہی دینے سے نہ رو کے۔بعض لوگ یہاں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی بعض دفعہ باہر آنے کے چکر میں غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، تو ان باتوں سے بھی بچو۔جو صیح حالات ہوں اس کے مطابق اپنا کیس داخل کرواؤ اور اس میں اگر مانا جاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جائیں۔کیونکہ غلط بیانیوں کے باوجود بھی بعضوں کے کیس ریجیکٹ (Reject) ہو جاتے ہیں تو سیچ پر قائم رہتے ہوئے بھی آزما کر دیکھیں انشاء اللہ فائدہ ہی ہوگا۔یا اگر ریجیکٹ ہوں گے بھی تو کم از کم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث تو نہیں بنیں گے۔پھر آپس میں محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : آپس میں اخوت و محبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو۔ہر ایک قسم کے ہرل اور تمسخر سے مطلقا کنارہ کش ہو جاؤ کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے۔آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔ہر ایک اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے۔اللہ تعالیٰ سے بچی صلح پیدا کر لو اور اس کی اطاعت میں واپس آجاؤ۔ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنی باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ“۔(الحكم ٢٠ تا ٢٧ مئی ١٨٩٦ ملفوظات جلد اول صفحه ٢٦٦ تا ٢٦٨)