خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 335 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 335

$2003 335 خطبات مسرور پھر آپ فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہونا چاہئے۔اور ان کو شکر کرنا چاہئے خدا تعالیٰ نے ان کو یوں ہی نہیں چھوڑا بلکہ ان کی ایمانی قوتوں کو یقین کے درجہ تک بڑھانے کے واسطے اپنی قدرت کے صد ہانشان دکھائے ہیں“۔پھر فرماتے ہیں کہ : کیا کوئی تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔میں دعوی سے کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جس کو ہماری صحبت میں رہنے کا موقع ملا ہو۔اور اس نے خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ نشان اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو۔ہماری جماعت کے لئے اسی بات کی ضرورت ہے کہ ان کا ایمان بڑھے، خدا تعالیٰ پر سچا یقین اور معرفت پیدا ہو، نیک اعمال میں سستی اور کسل نہ ہو کیونکہ اگر ستی ہو تو پھر وضو کرنا بھی ایک مصیبت معلوم ہوتا ہے۔چہ جائیکہ وہ تہجد پڑھے۔اگر اعمال صالحہ کی قوت پیدا نہ ہو اور مسابقت الی الخیر کے لئے جوش نہ ہو تو پھر ہمارے ساتھ تعلق پیدا کرنا بے فائدہ ہے۔اس شرط بیعت میں جو دسویں شرط چل رہی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے سے اس قدر تعلق جس کی مثال کسی دنیاوی رشتے میں نہ ملتی ہو پر اس قدر زور دیا ہے۔جس کی وجہ بھی صرف اور صرف ہماری ہمدردی ہے۔ہمیں تباہ ہونے سے بچانے کے لئے آپ نے فرمایا ہے کیونکہ سچا اسلام صرف اور صرف آپ کو ماننے سے مل سکتا ہے اور اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچانا ہے تو لازماً ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کشتی میں سوار ہونا ہوگا۔(الحكم ٢٤ مارچ ۱۹۰۳ء، ملفوظات جلد دوم صفحه ۷۱۰-۷۱۱) آپ فرماتے ہیں : ”میری طرف دوڑو کہ وقت ہے کہ جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں۔سچا شفیع میں ہوں جو اس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں اور اس کاظل جس کو اس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اس کی بہت تحقیر کی یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔دافع البلاء روحانی خزائن جلد (۱۸ صفحه (۲۳۳