خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 326 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 326

326 $2003 خطبات مسرور تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود جاتے تو ہمیشہ آگ میں ہی رہتے۔نیز فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے رنگ میں کوئی اطاعت واجب نہیں۔اطاعت صرف معروف امور میں ضروری ہے۔(سنن ابو داؤد - كتاب الجهاد باب في الطاعة تو ایک تو اس حدیث سے یہ واضح ہو گیا کہ نہ ماننے کا فیصلہ بھی فرد واحد کا نہیں تھا۔کچھ لوگ آگ میں کودنے کو تیار تھے کہ ہر حالت میں امیر کی اطاعت کا حکم ہے، انہوں نے سنا ہوا تھا اور یہ سمجھے کہ یہی اسلامی تعلیم ہے کہ ہر صورت میں، ہر حالت میں ، ہر شکل میں امیر کی اطاعت کرنی ہے لیکن بعض صحابہ جو احکام الہی کا زیادہ فہم رکھتے تھے ، آنحضرت ﷺ کی صحبت سے زیادہ فیضیاب تھے، انہوں نے انکار کیا۔نتیجہ مشورہ کے بعد کسی نے اس پر عمل نہ کیا کیونکہ یہ خودکشی ہے اور خودکشی واضح طور پر اسلام میں حرام ہے۔ابتدائی زمانہ تھا، بہت سے امور وضاحت طلب تھے اور اس واقعہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے وضاحت فرما کر معروف کا اصول وضع فرما دیا کہ کیا معروف ہے اور کیا غیر معروف ہے۔تو بعض لوگ سمجھتے ہیں، میں بتا دوں آج کل بھی اعتراض ہوتے ہیں کہ ایک کارکن اچھا بھلا کام کر رہا تھا اس کو ہٹا کر دوسرے کے سپر د کام کر دیا گیا ہے۔خلیفہ وقت یا نظام جماعت نے غلط فیصلہ کیا ہے اور گویا یہ غیر معروف فیصلہ ہے۔وہ اور تو کچھ نہیں کر سکتے اس لئے سمجھتے ہیں کہ کیونکہ یہ غیر معروف کے زمرے میں آتا ہے، خود ہی تعریف بنالی انہوں نے۔اس لئے ہمیں بولنے کا بھی حق ہے ، جگہ جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے کا بھی حق ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ جگہ جگہ بیٹھ کر کسی کو نظام کے خلاف بولنے کا کوئی حق نہیں۔اس بارہ میں پہلے بھی میں تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں۔تمہارا کام صرف اطاعت کرنا ہے اور اطاعت کا معیار کیا ہے میں حدیثوں وغیرہ سے اس کی وضاحت کروں گا۔ایسے لوگوں کو حضرت خالد بن ولید کا یہ واقعہ ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ جب ایک جنگ کے دوران حضرت عمرؓ نے جنگ کی کمان حضرت خالد بن ولید سے لے کر حضرت ابو عبیدہ کے سپرد کر دی تھی۔تو حضرت ابوعبیدہ نے اس خیال سے کہ خالد بن ولید بہت عمدگی سے کام کر رہے ہیں ان سے چارج نہ لیا۔تو جب حضرت خالد بن ولید کو یہ علم ہوا کہ حضرت عمرؓ کی طرف سے یہ حکم آیا ہے تو آپ حضرت ابو عبیدہا کے پاس گئے اور کہا کہ چونکہ خلیفہ وقت کا حکم ہے اس لئے آپ فوری طور پر اس کی تعمیل کریں۔مجھے ذرا بھی پروا نہیں ہوگی کہ میں آپ کے