خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 325
$2003 325 خطبات مسرور یہ خیال دل میں پیدا ہوسکتا ہے کہ رشتہ داریوں میں کبھی کچھ لو اور کچھ دو کبھی مانو اور کبھی منواؤ کا اصول بھی چل جاتا ہے۔تو یہاں یہ واضح ہو کہ تمہارا یہ تعلق غلامانہ اور خادمانہ تعلق بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔تم نے یہ اطاعت بغیر چون و چرا کئے کرنی ہے۔کبھی تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ یہ کہنے لگ جاؤ کہ یہ کام ابھی نہیں ہوسکتا، یا ابھی نہیں کر سکتا۔جب تم بیعت میں شامل ہو گئے ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے نظام میں شامل ہو گئے ہو تو پھر تم نے اپنا سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیا اور اب تمہیں صرف ان کے احکامات کی پیروی کرنی ہے، ان کی تعلیم کی پیروی کرنی ہے۔اور آپ کے بعد چونکہ نظام خلافت قائم ہے اس لئے خلیفہ وقت کے احکامات کی ، ہدایات کی پیروی کرنا تمہارا کام ہے۔لیکن یہاں یہ خیال نہ رہے کہ خادم اور نوکر کا کام تو مجبوری ہے، خدمت کرنا ہی ہے۔خادم کبھی کبھی بڑ بڑا بھی لیتے ہیں۔اس لئے ہمیشہ ذہن میں رکھو کہ خادمانہ حالت ہی ہے لیکن اس سے بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ کی خاطر اخوت کا رشتہ بھی ہے اور اللہ کی خاطر اطاعت کا اقرار بھی ہے اور اس وجہ سے قربانی کا عہد بھی ہے۔تو قربانی کا ثواب بھی اس وقت ملتا ہے جب انسان خوشی سے قربانی کر رہا ہوتا ہے۔تو یہ ایک ایسی شرط ہے جس پر آپ جتنا غور کرتے جائیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں ڈوبتے چلے جائیں گے اور نظام جماعت کا پابند ہوتا ہوا اپنے آپ کو پائیں گے۔بعض دفعہ بعض لوگ معروف فیصلہ یا معروف احکامات کی اطاعت کے چکر میں پڑ کر خود بھی نظام سے ہٹ گئے ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی خراب کر رہے ہوتے ہیں اور ماحول میں بعض قباحتیں بھی پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ان پر واضح ہو کہ خود بخو دمعروف اور غیر معروف فیصلوں کی تعریف میں نہ پڑیں۔غیر معروف وہ ہے جو واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے احکامات اور شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی ہے جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہے۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس پر ایک شخص کو حا کم مقرر کیا تا کہ لوگ اس کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔اس شخص نے آگ جلوائی اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ آگ میں کود جائیں۔بعض لوگوں نے اس کی بات نہ مانی اور کہا کہ ہم تو آگ سے بچنے کے لئے مسلمان ہوئے ہیں۔لیکن کچھ افراد آگ میں کودنے کے لئے تیار ہو گئے۔آنحضرت ﷺ کو جب اس بات کا علم ہوا