خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 320
$2003 320 خطبات مسرور لوگ تمہیں دُکھ دیں گے اور ہر طرح سے تکلیف پہنچائیں گے۔مگر ہماری جماعت کے لوگ جوش نہ دکھا ئیں۔جوش نفس سے دل دُکھانے والے الفاظ استعمال نہ کرو اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگ پسند نہیں ہوتے۔ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ ایک نمونہ بنانا چاہتا ہے۔“ آپ مزید فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ متقی کو پیار کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے سب ترساں رہو اور یا درکھو کہ سب اللہ کے بندے ہیں۔کسی پر ظلم نہ کرو۔نہ تیزی کرو۔نہ کسی کو حقارت سے دیکھو جماعت میں اگر ایک آدمی گندہ ہوتا ہے تو وہ سب کو گندہ کر دیتا ہے۔اگر حرارت کی طرف تمہاری طبیعت کا میلان ہو تو پھر اپنے دل کو ٹو لو کہ یہ حرارت کس چشمہ سے نکلی ہے۔یہ مقام بہت نازک ہے۔“ فرمایا:- (بدر نومبر ۱۹۱۱ء، ملفوظات جلد نمبر ۱ صفحه (۸-۹ ایسے بنو کہ تمہارا صدق اور وفا اور سوز و گداز آسمان پر پہنچ جاوے۔خدا تعالیٰ ایسے شخص کی حفاظت کرتا اور اس کو برکت دیتا ہے جس کو دیکھتا ہے کہ اس کا سینہ صدق اور محبت سے بھرا ہوا ہے۔وہ دلوں پر نظر ڈالتا اور جھانکتا ہے نہ کہ ظاہری قیل وقال پر۔جس کا دل ہر قسم کے گند اور ناپاکی سے معرا اور مبر اپاتا ہے ،اس میں آاُترتا ہے اور اپنا گھر بناتا ہے۔فرمایا:- (الحكم ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء، ملفوظات جلد سوم صفحه ۱۸۱) دومیں پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ نافع الناس ہیں اور ایمان،صدق و وفا میں کامل ہیں، وہ یقیناً بچالئے جائیں گے۔پس تم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کرو“۔فرمایا:- (الحكم ۱۷ دسمبر ١٩٠٤ء، ملفوظات جلد چهارم - صفحه ١٨٤) تم اُس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔بڑے ہوکر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ اُن کی تحقیر۔اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو، نہ خود نمائی سے اُن کی تذلیل۔اور امیر ہوکر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے اُن پر تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو۔کیا ہی بد قسمت وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا