خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 321

321 $2003 خطبات مسرور کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔اور بد بخت ہے وہ جوضد کرتا ہے اور نہیں بخشا۔“ فرمایا: 19 (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹۔صفحه ۱۲ تا ۱۳) در اصل خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہے اور خدا تعالیٰ اس کو بہت پسند کرتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ وہ اس سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔عام طور پر دنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا خادم کسی اس کے دوست کے پاس جاوے اور وہ شخص اس کی خبر بھی نہ لے تو کیا وہ آقا جس کا کہ وہ خادم ہے اس اپنے دوست سے خوش ہوگا ؟ کبھی نہیں۔حالانکہ اس کو تو کوئی تکلیف اس نے نہیں دی، مگر نہیں۔اس نوکر کی خدمت اور اس کے ساتھ حُسنِ سلوک گویا مالک کے ساتھ حسن سلوک ہے۔خدا تعالیٰ کو بھی اس طرح پر اس بات کی چڑ ہے کہ کوئی اس کی مخلوق سے سرد مہری برتے کیونکہ اس کو اپنی مخلوق بہت پیاری ہے۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے وہ گویا اپنے خدا کو راضی کرتا ہے۔“ (الحكم ٢٤ جنوری ١٩٠٥، ملفوظات جلد چهارم صفحه ٢١۵ تا ٢١٦ ـ جدید ایڈیشن) اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان نصائح پر عمل کرنے کی توفیق دے۔اور آپ سے جو عہد بیعت ہم نے باندھا ہے اس کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آخر میں میں جماعت احمد یہ جرمنی میں کام کرنے والے کارکنان کے بارہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جرمنی میں خطبہ کے دوران میں کسی وجہ سے کہہ نہیں سکا تھا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام کارکنان اور کارکنات نے انتہائی جوش اور جذبے سے مہمانوں کی خدمت کی ہے۔اور جلسے کے ابتدائی انتظامات میں بھی اور آخر میں بھی جب کہ کام سمیٹنا ہوتا ہے اور کافی مشکل کام ہوتا ہے یہ بھی۔بڑی محنت سے وقت کے اندر بلکہ وقت سے پہلے تمام علاقے کو صاف کر کے متعلقہ انتظامیہ کے سپر د کر دیا اور الحمدللہ کہ جہاں جہاں بھی جلسے ہوئے یہی نظارے دیکھنے میں نظر آرہے ہیں اور سب سے زیادہ خوشکن بات جو مجھے لگی اس جلسہ میں وہ یہ تھی کہ اس سال لجنہ کی خواتین کی حاضری مردوں سے زیادہ تھی اور کم و بیش دو