خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 299
$2003 299 خطبات مسرور عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (الاحزاب : (۵۷) کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔پوری کامیابی پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان دنیا میں آیا جو محمد کہلایا۔صلی الله عليه وسلم : " (الحكم جلد ٥ نمبر ۲ مورخه ۱۷/ جنوری ۱۹۰۱ ء صفحه (۳) آپ فرماتے ہیں کہ : خدا کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ متقی وہ ہے جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں ، وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے۔ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کرے۔ہم کو ہر حال میں وہ کرنا چاہئے جس سے ہماری فلاح ہو۔اللہ تعالیٰ کسی کا اجارہ دار نہیں۔وہ خاص تقویٰ کو چاہتا ہے۔جو تقویٰ کرے گا وہ مقام اعلیٰ کو پہنچے گا۔آنحضرت ﷺ یا حضرت ابراہیم علیہ السلام میں سے کسی نے وراثت سے عزت نہیں پائی۔گو ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ کے والد ماجد عبداللہ مشرک نہ تھے لیکن اس نے نبوت تو نہیں کی۔یہ تو فضل الہی تھا، ان صدقوں کے باعث جوان کی فطرت میں تھے ، یہی فضل کے محرک تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ابوالانبیاء تھے انہوں نے اپنے صدق و تقویٰ سے ہی بیٹے کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا۔خود آگ میں ڈالے گئے۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ہی صدق و صفا دیکھئے۔آپ نے ہر ایک قسم کی بدتحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پرواہ نہ کی۔یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِمُوْا تَسْلِيمًا ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو! تم بھی نبی پر درود سلام بھیجو۔فرماتے ہیں کہ : اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہیں فرمایا “۔یعنی ایسے اعمال اللہ تعالیٰ کو پسند تھے کہ ان کو محدود کرنے کے لئے کوئی لفظ ایسا نہیں تھا جس سے وہ اوصاف محدود ہو جائیں ، یعنی ان کی کوئی حد نہیں تھی۔فرماتے ہیں : یعنی آپ کی روح میں وہ صدق و وفا تھا اور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے